پاکستان نے افغان طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد نے کابل کی جانب سے دہشت گردوں کی حوالگی کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے اس بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اس قسم کی باتوں کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اس مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جس میں حالیہ استنبول مذاکرات کے حوالے سے حقائق کو جان بوجھ کر توڑا مروڑا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں موجود وہ دہشت گرد، جو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں، یا تو قابو میں لائے جائیں یا گرفتار کیے جائیں۔
وزارت کے مطابق جب افغان فریق نے کہا کہ یہ افراد پاکستانی شہری ہیں، تو پاکستان نے فوراً تجویز دی کہ انہیں ہمارے دیرینہ مؤقف کے مطابق مقررہ سرحدی راستوں کے ذریعے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔
افغان میڈیا نے ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ استنبول مذاکرات کے دوران افغان وفد نے ان افراد کو ملک بدر کرنے کی پیشکش کی تھی جنہیں پاکستان اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، تاہم اسلام آباد نے یہ پیشکش قبول نہیں کی اور اس کے بجائے اسلامی امارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان افراد کو افغانستان کے اندر ہی قابو میں رکھے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک نے جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، اور استنبول اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق فریقین نے فیصلہ کیا ہے کہ عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے اگلا اجلاس 6 نومبر 2025 کو استنبول میں منعقد ہوگا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تمام فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کر لیا ہے، اور مزید کہا گیا کہ اس کے نفاذ سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت اعلیٰ سطحی اجلاس میں 6 نومبر 2025 کو استنبول میں کی جائے گی۔