رائے

خسارے سے معاشی فائدے کی طرف

پاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں غذائی نقصان، ماحولیاتی کمزوری اور ڈیجیٹل تبدیلی ایک دوسرے سے...
شائع November 2, 2025 اپ ڈیٹ November 3, 2025

پاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں غذائی نقصان، ماحولیاتی کمزوری اور ڈیجیٹل تبدیلی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔انہی چیلنجز کے تناظر میں قائداعظم یونیورسٹی (کیو اے یو) کے اسکول آف اکنامکس نے 22 اور 23 اکتوبر 2025 کو اسلام آباد میں چھٹی انٹرنیشنل اپلائیڈ اکنامکس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کا موضوع خلاؤں کو پُر کرنا: غذائی نقصان میں کمی کی حکمتِ عملی تھا۔

یہ دو روزہ تقریب آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ (اے سی آئی اے آر ) اور متعدد شراکت دار یونیورسٹیوں کے تعاون سے منعقد ہوئی، جس میں پالیسی سازوں، ماہرینِ معاشیات، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے زرعی نقصان میں کمی، ضیاع کے تدارک اور پاکستان میں غذائی تحفظ کو مستحکم بنانے کے لیے حکمتِ عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

پہلے دن تقریب نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) میں منعقد ہوئی، جبکہ دوسرے روز قائداعظم یونیورسٹی کے اسکول آف اکنامکس کانفرنس ہال میں ہوئی۔

**تجربے سے سیکھنا، داد کے لیے نہیں بلکہ خدمت کے لیے **

اے سی آئی اے آر کے نمائندے مسٹر کاظمی نے وضاحت کی کہ ہم ایک ڈونر ایجنسی نہیں بلکہ ایک تعلیمی و تحقیقی ادارہ ہیں جو سیکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے سی آئی اے آر اپنے منصوبوں کے اختتام کے کئی سال بعد بھی جائزہ لیتا ہے ، تاکہ ان کے دیرپا اثرات کو دیکھا جا سکے۔ ان کے مطابق، یہی طریقہ زرعی امداد کو ایک تعلیمی عمل میں بدل دیتا ہے جو شواہد کو ارتقاء میں ڈھالتا ہے۔

یہ منصوبہ قائداعظم یونیورسٹی، پیر مہر علی شاہ زرعی یونیورسٹی راولپنڈی، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان،ٓاسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے اشتراک سے چلایا گیا۔اس کی قیادت اسکول آف اکنامکس، کیو اے یو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انور شاہ نے کی۔ان کی قیادت نے تعلیمی تحقیق اور زمینی حقائق کے درمیان ربط قائم کیا۔

ٹیکنالوجی اپنانا: خطرے کو لچک میں بدلنا

چین کے اسکول آف مینجمنٹ جیانگسو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منان اسلم نے اپنے مقالے میں پنجاب کے چھوٹے کسانوں میں زرعی نقصانات میں کمی کے لیے آئی سی ٹی کے استعمال کے عوامل پر گفتگو کی۔ان کا مؤقف تھا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال خطرات کو لچک میں بدل دیتا ہے، جس سے کسان بحرانوں کا صرف سامنا نہیں بلکہ ان کی پیش‌بینی بھی کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر منان اسلم کو ان کی تحقیق پر بہترین پریزنٹیشن ایوارڈ اور نقد انعام سے نوازا گیا، جو اس بات کا اعتراف تھا کہ ان کا کام زرعی پالیسی سازی میں عملی اہمیت رکھتا ہے۔

صنفی نقطۂ نظر اور جامع اختراع

اس موقع پر کانفرنس میں شرکت اور برابری پر بھی زور دیا گیا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن جینڈر اسٹڈیز سے ڈاکٹر عائشہ انیس ملک نے “زراعت میں خواتین کے کردار اور صنفی حساس اختراعات” پر سیشن کی سربراہی کی۔

انہوں نے زور دیا کہ خواتین زرعی پیداوار کے بعد کے مراحل میں پوشیدہ مگر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا پیغام تھا کہ صنفی لحاظ سے حساس آئی سی ٹی حل زرعی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر انیلا افضل (پیر مہر علی شاہ زرعی یونیورسٹی) نے جنوبی ایشیا میں صنفی شمولیت پر مبنی ماحولیاتی حکمتِ عملیوں پر اپنے تجربات شیئر کیے، جن کے ذریعے مقامی برادریوں کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔

اجتماعی کامیابی کا اعتراف

کانفرنس کی کامیابی کے پیچھے ایک متحرک ٹیم کا ہاتھ تھا۔ڈاکٹر انور شاہ نے علمی وژن کے ساتھ قیادت کی، جبکہ اسکول آف اکنامکس کی ڈاکٹر فاطمہ نے انتظامی امور بخوبی سنبھالے۔طلبہ نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ پی ایچ ڈی اسکالر سمیع اللہ اور انڈرگریجویٹ طلبہ امجد اور حسنین میر نے رہائش، ٹرانسپورٹ اور مہمانوں کی رہنمائی میں مثالی کارکردگی دکھائی۔

تقریب میں وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اور سینیٹ آف پاکستان کے نمائندوں کی شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت زرعی نقصانات کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

علمی اور قیادت کی بصیرتیں

اپنے اختتامی خطاب میں کیو اے یو کے ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ پائیدار زرعی نظام کے لیے مختلف شعبوں معاشیات، سوشیالوجی اور ٹیکنالوجی کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تحقیق اور عملی اقدامات کے درمیان پُل بنانا پاکستان کے غذائی نقصانات کو معاشی قدر میں بدلنے کے لیے ضروری ہے۔

پائیدار غذائی مستقبل کی جانب

چھٹی انٹرنیشنل اپلائیڈ اکنامکس کانفرنس محض ایک علمی اجتماع نہیں تھی بلکہ عملی اقدام کی دعوت تھی۔ اس تقریب نے واضح کیا کہ جدت، شمولیت اور سیکھنے کا عمل ایک ساتھ چل کر پاکستان کے غذائی نظام کو ضیاع سے دولت میں تبدیل کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

جیسے جیسے پاکستان غذائی غیر یقینی صورتحال اور ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، آئی سی ٹی کے نفاذ سے نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔ زرعی شعبے کو ڈیجیٹل بنانا، صنفی شرکت کو مضبوط کرنا اور پالیسی میں مسلسل سیکھنے کے عمل کو شامل کرنا ملک کو غذائی تحفظ اور ماحولیاتی لچک کے حامل مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اس کانفرنس میں مقامی یونیورسٹیوں، عالمی شراکت داروں اور نوجوان محققین کے درمیان تعاون کی روح پاکستان کی زرعی ترقی کے لیے پر امید سمت کی عکاس ہے۔ جیسا کہ اے سی آئی اے آر کے فلسفے میں بیان کیا گیا ہے کہ ترقی صرف مالی وسائل سے نہیں بلکہ سیکھنے، غور و فکر اور مشترکہ مقصد سے حاصل ہوتی ہے۔

کانفرنس کا اختتام امید کے جذبات کے ساتھ ہوا، جس میں محققین، عملی ماہرین اور پالیسی سازوں نے تحقیق اور عملی حقائق، پالیسی اور عمل اور بالآخر نقصان اور پائیداری کے درمیان پل قائم کرنے کے لیے تجدید شدہ عزم کا اظہار کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025