پاکستان

پاکستان امن چاہتا ہے مگر سرحد پار دہشتگردی برداشت نہیں کرے گا ، آرمی چیف

  • افغان طالبان کو دہشت گرد گروہوں کی معاونت سے باز رہنے کا انتباہ
شائع October 30, 2025 اپ ڈیٹ October 30, 2025 08:04pm

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد اگرچہ تمام پڑوسی ممالک بشمول افغانستان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے مگر وہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔یہ انتباہ انہوں نے جمعرات کو پشاور کے دورے کے دوران دیا ۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے اپنے دورے کے دوران قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور کور ہیڈکوارٹر 11 کور میں پاک افغان سرحد پر جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔

قبائلی عمائدین کے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے حالیہ پاک افغان کشیدگی کے دوران مقامی آبادی کے تعاون کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں اور ثابت قدمی کا اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے سفارتی اور معاشی سطح پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد مثبت اقدامات کیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت نے بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ایسے عناصر کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا ہے۔

جنرل عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی امن کی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

جرگے میں شریک قبائلی عمائدین نے بھی عسکریت پسندوں کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ رہیں گے کیونکہ ایسی سوچ کو صوبے کے قبائل میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں۔

پشاور پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر پشاور نے کیا۔