پاکستان کی بڑی فرٹیلائزر کمپنیوں میں سے ایک فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) قدرتی گیس کے متبادل کے طور پر کوئلہ گیسفیکیشن منصوبے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جس کا مقصد ملک کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے فائدہ اٹھانا اور درآمد شدہ توانائی پر انحصار کم کرنا ہے۔
کمپنی نے یہ معلومات منگل کو اپنے کارپوریٹ بریفنگ سیشن کے دوران شیئر کی، جس میں بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے نمائندے بھی موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی کی انتظامیہ نے کہا کہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے لیے ابھی کوئی تخمینہ نہیں لگایا گیا، تاہم کسی بھی اہم پیش رفت کے بعد اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔
پاکستان کے کوئلے کے ذخائر تقریباً 186 ارب ٹن کے قریب ہیں، جو اسے دنیا کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل کرتا ہے۔ ان میں زیادہ تر لائگنائٹ شامل ہے جو سندھ کے تھر ریگستان میں واقع ہے۔
ایف ایف سی کی انتظامیہ نے مجموعی صنعت کے بارے میں بتایا کہ 2025 میں یوریا کی کل فروخت 6.3 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ دسمبر تک یوریا کا اسٹاک 1 ملین ٹن سے کم رہنے کا اندازہ ہے۔
ٹاپ لائن کے مطابق، 2026 میں پہلی ششماہی میں زرعی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث یوریا کی طلب میں بحالی متوقع ہے کیونکہ گندم اور کپاس کی پیداوار کے لیے فارم اکنامکس بہتر ہو گئے ہیں۔
یوریا کی برآمد کے حوالے سے ایف ایف سی کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ اس بارے میں کوئی بات چیت جاری نہیں اور نہ ہی وہ برآمدات پر غور کر رہی ہے۔