ارب پتی سرمایہ کار اور فلاحی کارکن بل گیٹس نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ شدید موسم کے اثرات کے مطابق خود کو ڈھالیں اور موسمیاتی درجہ حرارت میں کمی کے اہداف کے بجائے انسانی صحت اور فلاح و بہبود کو ترجیح دیں۔ وہ کوپ 30 ماحولیاتی مذاکرات سے قبل یہ پیغام دے رہے ہیں جو 10 سے 21 نومبر کو برازیل کے شہر بیلم میں منعقد ہوں گے۔
ان مذاکرات میں ممالک اپنی نئی موسمیاتی وعدوں کی تجدید کریں گے اور توانائی کے قابلِ تجدید اہداف پر پیشرفت کا جائزہ لیں گے۔ بل گیٹس نے اپنی ذاتی بلاگ پوسٹ میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اگرچہ ایک سنگین مسئلہ ہے، تاہم یہ انسانی تہذیب کے خاتمے کا باعث نہیں بنے گی۔ ان کے مطابق، صرف درجہ حرارت کو کامیابی کا پیمانہ بنانے کے بجائے حقیقی پیشرفت اس وقت ممکن ہوگی جب صحت، توانائی تک رسائی اور زراعتی لچک میں سرمایہ کاری کی جائے۔
بل گیٹس کا کہنا تھا کہ انسانی فلاح و بہبود میں بہتری، خاص طور پر ترقی پذیر خطوں میں، موسمیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے پالیسی سازوں اور عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ یہ جانچیں کہ موسمیاتی امداد مؤثر انداز میں استعمال ہو رہی ہے یا نہیں، اور ڈیٹا کے ذریعے اثرات کو زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔
بل گیٹس کی کمپنی بریک تھرو انرجی صاف توانائی کی نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ ان کی لاگت کم ہو اور عالمی سطح پر ان کا استعمال بڑھ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ قدرتی آفات سے ہونے والی سالانہ اموات گزشتہ ایک صدی میں 90 فیصد کم ہو کر تقریباً 40 سے 50 ہزار رہ گئی ہیں، جس کی بڑی وجہ بہتر وارننگ سسٹم اور مضبوط انفراسٹرکچر ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور عالمی موسمیاتی تنظیم ( نے حال ہی میں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ انتباہی نظام قائم کریں تاکہ عوام کو شدید موسمی واقعات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ پچاس برسوں میں موسمیاتی آفات سے 20 لاکھ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 90 فیصد اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں۔