رواں سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران چین کو مچھلیوں کی خوراک کی برآمدات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جنوری تا اگست پاکستان نے اس زمرے میں چین کو 25.19 ملین امریکی ڈالر مال برآمد کیا جو 2024 کے اسی عرصے کے دوران 21.56 ملین امریکی ڈالر تھا۔

چین کو برآمد کی جانے والی مچھلیوں کی خوارک کی مقدار 23,012.01 ٹن رہی جب کہ 2024 کے اسی عرصے میں یہ مقدار 18,635.415 ٹن تھی۔

رواں سال اوسط قیمت ایک ڈالر فی کلو تھی جو ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں کافی مسابقتی ہے۔

ماہرین اس اضافہ کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات سے جوڑ رہے ہیں جہاں دونوں حکومتیں خوراک اور زراعت کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ برآمدات میں مسلسل اضافہ پاکستان کی مسابقتی قیمتوں اور اعلیٰ پروٹین والی مصنوعات بشمول گوشت اور سمندری خوراک کی عالمی طلب میں اضافے سے منسلک ہے۔ گوادر پرو کے مطابق چین کی وسیع مارکیٹ اور بڑھتی ہوئی صارف بنیاد اس قسم کی مصنوعات کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی ادارے باقاعدگی سے چین میں نمائشوں اور تجارتی میلوں میں حصہ لے رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برآمدات میں یہ اضافہ نہ صرف پاکستان کی چین کی خوراک کی درآمدات کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دوطرفہ تجارت میں مثبت رجحانات کی بھی نشاندہی کرتا ہے، جس کے توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ بڑھتی رہے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025