سسٹمز لمیٹڈ جو پاکستان کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنیوں میں سے ایک ہے، اپنی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور عالمی کاروباری موجودگی کو وسعت دینے کے لیے یورپ اور امریکہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے منصوبوں اور اسٹریٹجک حصول پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔

لسٹڈ کمپنی نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

کمپنی نے کہا کہ مستقبل کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک ترجیح یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں غیر روایتی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ سسٹمز لمیٹڈ اس مقصد کے لیے ان ترقی یافتہ منڈیوں میں تیزی سے داخل ہونے اور انٹرپرائز کلائنٹس کے درمیان اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے حصول کے مختلف مواقع کا جائزہ لے رہی ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ اس حکمتِ عملی کے تحت وہ برطانیہ میں اپنی ذاتی سبسڈری قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ وہاں براہِ راست آپریشنل موجودگی قائم کی جاسکے، ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جاسکے، موجودہ اثاثوں، انٹلیکچوئل پراپرٹی اور ایکسیلیریٹرز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے، اور برآمدی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکے۔

کمپنی اپنی برطانیہ میں موجود وابستہ کمپنی کے ذریعے موجودہ شراکت داریوں کو مزید مضبوط کرے گی، باہمی تعاون کو گہرا کرے گی اور یورپ و شمالی امریکہ میں موجود کلائنٹس کو خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنی سروس کی صلاحیتوں کو وسعت دے گی۔

سسٹمز لمیٹڈ کے مطابق برٹش امریکن ٹوبیکو (بی اے ٹی ) کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری آئندہ سہ ماہی میں شروع ہونے والی ہے جو کمپنی کے عالمی شیئرڈ سروسز نیٹ ورک کو وسعت دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان میں آپریشنز کے حوالے سے کمپنی نے بتایا کہ اس کے مقامی کاروبار نے پہلی مرتبہ مثبت آپریٹنگ منافع حاصل کیا ہے۔ پہلے جن منصوبوں کو مشکلات کا سامنا تھا، ان میں سے بیشتر مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی چند منصوبے آئندہ سہ ماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

مزید بتایا گیا کہ کمپنی کا وابستہ ادارہ ون لوڈ (OneLoad) کامیابی کے ساتھ نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ای منی لائسنس کی منظوری بھی حاصل کر چکا ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ ادارہ اب اپنے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے کاروبار کو وسعت دینے اور صارفین کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

سسٹمز لمیٹڈ کی آمدنی 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی نو ماہ کی مدت کے دوران سالانہ بنیاد پر 18.9 فیصد بڑھ کر 48.3 ارب روپے سے 57.4 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

کمپنی کا مجموعی منافع اور آپریٹنگ منافع بالترتیب 33.1 فیصد اور 32.8 فیصد بڑھا، جب کہ اسی مدت کے دوران خالص منافع 46.3 فیصد اضافے کے ساتھ 5.4 ارب روپے سے بڑھ کر 7.9 ارب روپے ہو گیا۔