ستمبر 2025 کی بجلی پیداوار کے اعداد و شمار ایک مانوس منظر پیش کرتے ہیں ، ایسا منظر جس میں جمود اور ساختی تبدیلی بیک وقت جنم لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

کل پیداوار 12.6 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی، جو ریفرنس پیداوار سے تقریباً 5 فیصد کم ہے، اور یہ گزشتہ 14 مہینوں میں بارہویں موقع ہے جب حقیقی پیداوار ہدف سے کم رہی۔

بظاہر، پیداوار میں سالانہ ایک معمولی سا اضافہ، یعنی 1 فیصد، دیکھا گیا ہے، لیکن یہ اضافہ ایک کمزور بنیاد پر ہے، کیونکہ پچھلے سال بجلی کی پیداوار کئی سال کی کم ترین سطح تک گر گئی تھی۔

تاہم وسیع تناظر میں یہ صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں کل پیداوار 40.9 ارب یونٹس رہی، جو مالی سال 2020 کی پہلی سہ ماہی سے بھی کم ہے۔ یعنی پچھلے پانچ برسوں میں معیشت، آبادی، اور ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلیاں آئیں، مگر بجلی کی پیداوار وہیں کی وہیں رکی رہی۔

کسی بھی ترقی پذیر معیشت میں اتنے طویل عرصے تک بجلی کی طلب میں کمی غیر معمولی ہے۔ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ایک وقت ایسا آیا جب معاشی بحران، صنعتی سست روی اور بجلی کے بڑھتے ٹیرف نے قدرتی طلب کو محدود کر دیا تھا۔

لیکن وہ وقتی عوامل اب بہت حد تک ختم ہو چکے ہیں، پھر بھی گرِڈ سے منسلک طلب وہ بحالی نہیں دکھا سکی جو پہلے دیکھنے میں آتی تھی۔

اصل کہانی کہیں اور ہے ، سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنے والے نظام (سولر پاور) کے اُس خاموش انقلاب میں جو پاکستان کے بجلی کے منظرنامے کو تیزی سے بدل رہا ہے۔ اور زیادہ تر اصلاحات کے برعکس، جو پالیسی اقدامات یا سرکاری سطح پر شروع ہوتی ہیں، یہ تبدیلی نیچے سے اوپر کی طرف اُبھری ہے یعنی عوام، کسانوں، اور چھوٹے کاروباروں نے اسے آگے بڑھایا، نہ کہ حکومت نے۔

گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کی سولر درآمدات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2024 میں سولر پینلز کی درآمدات 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو تین سال میں چار گنا بڑھوتری ہے۔ بیٹریوں کی درآمد بھی اسی راستے پر ہے، جبکہ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں درآمدات پچھلے پورے سال کی سطح سے تجاوز کر چکی ہیں۔

یہ سب سولر پاور کو بڑے پیمانے پر اپنانے کی کہانی سناتے ہیں، ایک غیر منصوبہ بند لیکن ناقابلِ روک تبدیلی جو دن کے اوقات میں گرِڈ پر انحصار کم کر رہی ہے۔

اس تبدیلی کا اثر اب ڈیٹا میں نمایاں ہے۔ بجلی کی فی گھنٹہ پیداوار کے تجزیات دوپہر کے وقت طلب میں نمایاں کمی ظاہر کرتے ہیں ، جسے ڈک کَرو کہا جاتا ہے ، اور یہ صرف دو یا تین سال پہلے کی مستحکم کھپت سے بالکل مختلف منظر ہے۔ دن کے وقت، خاص طور پر زرعی اور دیہی علاقوں میں، طلب میں بڑی گراوٹ آئی ہے کیونکہ مقامی سولر توانائی اب آبپاشی، رہائشی اور کاروباری ضروریات پوری کر رہی ہے۔

یہ سولر انقلاب اُس وقت بھی جاری ہے جب صنعتی صارفین میں سے ایک بڑا حصہ دوبارہ گرِڈ سے منسلک ہو چکا ہے اور نجی بجلی گھروں (کیپٹو پاور) کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، صنعتی شعبے کی طلب میں اضافے کے باوجود مجموعی نظام کی پیداوار میں بہتری نہیں آئی جو ظاہر کرتا ہے کہ گھریلو، زرعی اور چھوٹے تجارتی صارفین کا گرِڈ سے ہٹ جانا اس صنعتی واپسی سے کہیں زیادہ اثر ڈال رہا ہے۔

درآمدی ایندھن سے چلنے والے دو اہم ذرائع آر ایل این جی اور درآمدی کوئلے میں حقیقی اور ریفرنس پیداوار کے درمیان فرق نئے آپریشنل چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔ دن کے وقت طلب میں تیزی سے کمی کے بعد نظام کو سورج غروب ہونے پر فوراً پیداوار بڑھانی پڑتی ہے، جس سے لوڈ فالوئنگ میں مشکلات، اضافی لاگت اور تھرمل پاور پلانٹس پر دباؤ بڑھ رہا ہے جو اتنی اتار چڑھاؤ والی طلب کے لیے تیار نہیں تھے۔

پاکستان کا گرِڈ، جو قابلِ پیش گوئی کھپت اور مرکزی ڈِسپیچ پر مبنی تھا، اب ایک غیر مستحکم دو چوٹیوں والے لوڈ پیٹرن سے نبرد آزما ہے، جو لاکھوں پروسمرز (پیداوار اور کھپت کرنے والے صارفین) کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جن کی بجلی کی پیداوار نظام میں نظر ہی نہیں آتی۔ یہ ساختی تبدیلی صرف پاکستان تک محدود نہیں، لیکن یہاں اس کی رفتار اور غیر رسمی نوعیت بغیر کسی مربوط منصوبہ بندی یا قیمتوں کی اصلاح کے، اسے زیادہ خلل انگیز بناتی ہے۔

پالیسی سازوں اور ریگولیٹرز کے لیے یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف، چھتوں پر نصب سولر نظام نے گھریلو اور چھوٹے کاروباری صارفین کو ریلیف دیا ہے جو بلند ٹیرف سے پریشان تھے۔

دوسری طرف، اس نے گرِڈ کی مالی پائیداری کے لیے درکار طلب کی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے نظام میں جہاں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے معاہدوں میں بھاری فکسڈ لاگتیں شامل ہیں۔

فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کا نظام آئندہ مہینوں میں ریفرنس اور حقیقی پیداوار کے درمیان بڑھتے فرق کو مزید واضح کرے گا، خاص طور پر درآمدی ایندھن کے معاملے میں۔ لیکن اصل مسئلہ صرف ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نہیں بلکہ یہ ایک ایسے نظامی ڈھانچے کا ہے جو ماضی میں جکڑا ہوا ہے، جبکہ صارفین کا طرزِ استعمال مستقبل میں پہنچ چکا ہے۔

پاکستان کے توانائی منصوبہ ساز طویل عرصے سے ترقی کو میگاواٹس کے اضافے سے ناپتے آئے ہیں۔ مگر موجودہ حقیقت اس پیمائش کی متقاضی ہے جو تقسیم شدہ پیداوار، اسٹوریج انضمام، اور لچکدار ڈِسپیچ کو شامل کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نظام تیزی سے فرسودہ لگے گا، چاہے صارفین کتنے ہی جدید کیوں نہ ہو جائیں۔

اب پاکستان کو جس بحث کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کون گرِڈ پر رہے گا اور کب تک۔ کیونکہ رجحانات پہلے ہی واضح ہیں: بجلی کی پیداوار شاید ماضی میں اٹکی ہوئی ہو، مگر صارفین کا رویہ یقینی طور پر مستقبل میں داخل ہو چکا ہے۔