پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں سے بڑھتی ہوئی جارحیت کے باوجود حالیہ دنوں میں اس کا پُر سکون اور باوقار طرزِ عمل ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے جو اس خطے کی سیاسی بصیرت میں اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے: دفاع میں وقار کمزوری نہیں، بلکہ دانائی ہے۔ آرمی چیف کا یہ بیان کہ ایٹمی ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں محض ایک جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ تجربے سے حاصل ہونے والی ایک سنجیدہ وارننگ ہے، جسے خاص طور پر نئی دہلی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے بھارت کا سیاسی و عسکری ڈھانچہ کشیدگی کی انتہا تک جاچکا ہے۔ اس نے قوم پرستی کے جذبات کو بھڑکایا، ملکی سیاست کو عسکری مہم جوئی کے ساتھ جوڑ دیا، ڈیٹرنس اور اشتعال انگیزی کے درمیان لکیر کو مٹا دیا۔ ایسا رویہ شاید ووٹ حاصل کرنے میں مددگار ہو، مگر یہ پورے جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ایٹمی ماحول وہ نہیں جہاں غلطیوں کو واپس لیا جا سکے، بلکہ وہ ہے جہاں غلطی خود تباہی کے مترادف ہوتی ہے۔ پاکستان کا تحمل سے کام لینا، اور ساتھ ہی کسی چیلنج کا ٹھوس جواب دینا، ہچکچاہٹ نہیں بلکہ بلوغت کی علامت ہے ، یعنی طاقت اور لاپرواہی کے درمیان فرق۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کو اشتعال انگیزی کا سامنا صرف ایک جانب سے نہیں، بلکہ دو طرف سے ہے۔ مغربی سرحد پر کابل کی مہم جوئی — سرحد پار فائرنگ، پراکسی گروہوں کی پناہ، اور تصادم کی دعوت ایک ایسا قدم ہے جو نہ صرف کم نظری ہے بلکہ پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث ہے۔

یہ گمان کہ نئی دہلی کے ساتھ قربت افغانستان کے ہاتھ مضبوط کر دے گی، محض ایک خوش فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک نے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر عالمی سطح پر اپنے لیے تنقید کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ ایک واضح مؤقف برقرار رکھا ہے، جہاں حملہ ہوا، وہاں بھرپور جواب دیا، مگر ضرورت سے زیادہ تصادم سے گریز کیا۔ یہی رویہ ذمہ دارانہ ڈیٹرنس کہلاتا ہے۔

بھارت اور اس کے نئے اتحادی افغانستان کو جو سبق سیکھنا چاہیے وہ عسکری نہیں، اخلاقی ہے۔ ایٹمی ڈیٹرنس جنگ کو ختم نہیں کرتا، بلکہ حماقت کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ جب پاکستان کے آرمی چیف کہتے ہیں کہ جنگ کے لیے کوئی گنجائش نہیں تو وہ صرف ایک سپاہی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اسٹرٹیجک مفکر کے طور پر بولتے ہیں جو سمجھتا ہے کہ استحکام صرف ضبط اور تحمل سے ممکن ہے۔ بھارت کا پری ایمپٹو اسٹرائیک اور کراس بارڈر انکارژن کا نظریہ، جو بظاہر دفاعی قرار دیا جاتا ہے، دراصل اسی ڈیٹرنس کو کمزور کرتا ہے۔ ہر اشتعال انگیزی اس نازک توازن کو مزید غیر محفوظ بناتی ہے جس نے دہائیوں سے تباہی کو روکے رکھا ہے۔ یہ خطرہ نظریاتی نہیں، وجودی ہے۔

گزشتہ مہینوں میں پاکستان کے طرزِ عمل نے اس کے دفاعی نظریے قابلِ اعتماد ڈیٹرنساور ہمہ وقت تیاری کو دوبارہ ثابت کیا ہے۔ آرمی چیف کی جانب سے جن کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا، چاہے وہ دہشت گرد خطرات کے خاتمے سے متعلق ہوں یا سرحدی سالمیت کے دفاع سے، وہ جارحیت نہیں بلکہ صلاحیت کی علامت ہیں۔ یہ دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان کا امن کا عزم کمزوری نہیں بلکہ تیاری پر مبنی ہے۔ یہی توازن ڈیٹرنس کو اطاعت سے اور سفارت کاری کو سادگی سے الگ کرتا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ دنیا جنوبی ایشیا کے ایٹمی توازن میں ذمہ داری کی اس غیر مساوی تقسیم کو پہچانے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت مذاکرات کی پاکستان کی بار بار کی اپیلیں خصوصاً کشمیر کے معاملے پر بھارت کے انکاری رویے اور توسیع پسندانہ بیانیے کے بالکل برعکس ہیں۔ خطے کو ایک اور عسکری قوت کے مظاہرے کی ضرورت نہیں، بلکہ سیاسی پختگی کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ اور یہی پختگی فی الحال بھارت کی پالیسی میں مفقود ہے، جو آرمی چیف کے بیانات کو مزید بروقت اور ضروری بناتی ہے۔

جنگیں اس وقت شروع ہوتی ہیں جب ضبط ختم ہوتا ہے۔ اور ضبط کمزوری نہیں، طاقت کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ پاکستان کا دباؤ میں پُر سکون رہنا، دونوں جانب سے اشتعال انگیزی کے باوجود اس کا نپا تلا جواب دینا، اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری یہ سب نہ صرف قومی وقار بلکہ علاقائی دانشمندی کا تحفظ ہیں۔ کاکول سے دیا گیا پیغام بالکل واضح تھا، پاکستان جنگ نہیں چاہتا، مگر دباؤ میں نہیں آئے گا۔

ایک ایسی دنیا میں جو پہلے ہی ایٹمی خدشات سے بھری ہوئی ہے، جنوبی ایشیا ایک لمحے کی بھی لاپرواہی برداشت نہیں کر سکتا۔ اصل طاقت نعرہ بازی میں نہیں، اسٹرٹیجک بلوغت میں ہے۔ پاکستان نے یہ دکھا دیا ہے؛ اب بھارت کو یہ سیکھنا ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025