جیسے جیسے چین اپنی برآمدات پر گرفت مضبوط کر رہا ہے، پاکستان کے معدنی وسائل ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے وعدوں، سیاست اور خطرات، تینوں کو آزمائش میں ڈال رہی ہے، اور اس کی اس صلاحیت کا امتحان بھی ہے کہ وہ امکانات کو پالیسی میں اور ارضیات کو معاشی ترقی میں کیسے بدلتا ہے۔
پاکستان کے طویل عرصے سے دبے ہوئے معدنی ذخائر ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ملک کے نایاب معدنی وسائل، لِتھیئم، تانبہ، کوبالٹ اور دیگر تزویراتی دھاتیں، عالمی سپلائی چینز میں تبدیلی اور چین کی ٹیکنالوجی برآمدات پر پابندیوں کے باعث اچانک جغرافیائی و سیاسی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
دہائیوں تک پاکستان کے معدنی وسائل سائنسی و ارضیاتی رپورٹس تک محدود رہے اور عالمی تجارت کا حصہ نہ بن سکے۔ تاہم اب، امریکا کی ایک کمپنی کو افزودہ معدنیات کی پہلی تجارتی ترسیل اور رواں سال 500 ملین ڈالر مالیت کے ایک تزویراتی معاہدے پر دستخط کے ساتھ، پاکستان باضابطہ طور پر اہم معدنیات کے بین الاقوامی میدان میں داخل ہو چکا ہے۔
پاکستان کا معدنی جغرافیہ واقعی امید افزا ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف حصوں میں قیمتی ذخائر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ذخائر میں نایاب ارضی عناصر ( آر ای ایز ) شامل ہیں جو برقی گاڑیوں، ہوائی ٹربائنوں، سیمی کنڈکٹرز اور دفاعی نظاموں کے لیے ناگزیر ہیں، وہ وسائل جو اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی دوڑ کے مرکز میں ہیں۔ ریکوڈک اور سیندک کے تانبا و سونا منصوبے پہلے ہی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ معدنی وسائل رکھنے والے خطوں میں سے ایک پر واقع ہے۔ اب اگلا مرحلہ نایاب ارضی عناصر کی کان کنی اور ان کی پراسیسنگ ہے، جو کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔
عالمی سطح پر نایاب معدنیات کا شعبہ اب محض کان کنی تک محدود نہیں رہا؛ یہ ٹیکنالوجی، پراسیسنگ اور جغرافیائی سیاست کا امتزاج بن چکا ہے۔ فی الحال چین عالمی ریفائننگ کی استعداد کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ کنٹرول کرتا ہے۔ اس غلبے نے امریکا، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی یونین کو سپلائی چینز میں تنوع لانے اور متبادل ذرائع کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، اور پاکستان فطری طور پر اس نئی تزویراتی حکمتِ عملی میں ایک ممکنہ شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔
چین کی جانب سے نایاب ارضی عناصر کی ریفائننگ ٹیکنالوجی اور مخصوص مواد کی برآمدات پر سختی کے فیصلے نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جو ابتدا میں ایک انتظامی اقدام تھا، اب ایک تزویراتی پالیسی ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک ساتھ موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف چین کی پابندیاں نئے سپلائرز، جیسے پاکستان، کو زیادہ اہم بناتی ہیں، جبکہ دوسری جانب یہ اسلام آباد کو سستی چینی پراسیسنگ ٹیکنالوجی سے محروم کر دیتی ہیں، وہ راستہ جو سب سے قابلِ عمل طریقے سے قدر میں اضافے کی سہولت فراہم کر سکتا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان کو مغربی اور مشرقی ایشیائی شراکت داروں کو متوجہ کرنا ہوگا جو مہارت تو رکھتے ہیں، مگر شفاف طرزِ حکمرانی، قانونی تحفظ اور مستحکم معاہدوں کے خواہاں ہیں۔ یہ ایک نیا موقع ہے، مگر ایسا موقع جو پاکستان کے ادارہ جاتی اعتماد کا حقیقی امتحان ثابت ہوگا۔
اگلا چیلنج یہ ہے: ”دریافت سے دولت تک، وقت کی حقیقت“
معدنی دولت سے متعلق سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ اسے جلدی نقد بنایا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر تلاش سے لے کر مکمل پیداوار تک کا سفر عموماً سات سے بیس سال تک کا ہوتا ہے۔ کان کنی کے لیے سڑکیں، بجلی، پانی اور بندرگاہوں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ نایاب معدنیات کے لیے پیچیدہ علیحدگی کے پلانٹس درکار ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ خوش بین اندازے بھی یہی بتاتے ہیں کہ اگر سرمایہ کاری میں تسلسل، پالیسی میں یکسانیت، بہتر حکمرانی، سیاسی اتفاقِ رائے، استحکام اور سب سے بڑھ کر افرادی و مادی سلامتی یقینی بنائی جائے، تو پاکستان کو پانچ سے دس سال میں نمایاں آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ تمام عوامل نہایت دشوار اور چیلنجنگ ہیں۔
حالیہ دنوں میں اعلان کردہ ابتدائی پائلٹ برآمدات اور نمونہ جاتی ترسیلات حوصلہ افزا ضرور ہیں، مگر فی الوقت ان کی حیثیت علامتی ہے۔ معنی خیز آمدن — جو سالانہ کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، تبھی ممکن ہوگی جب پراسیسنگ اور برآمدی انفراسٹرکچر مکمل طور پر فعال ہو جائے۔ فی الحال پاکستان کی معدنی دولت زیادہ تر امکان کی شکل میں ہے، نفع کی نہیں۔
اگر اس موقع کو درست طور پر سنبھالا جائے تو اس کے ثمرات انقلابی ثابت ہو سکتے ہیں۔ نایاب معدنیات کی ترقی پاکستان کی محدود برآمدی بنیاد کو وسیع کر سکتی ہے، زرمبادلہ میں اضافہ لا سکتی ہے، اور ہائی ٹیک روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ ریکوڈک ماڈل پہلے ہی تانبے اور سونے سے طویل المدتی اربوں ڈالر کی آمدن ظاہر کرتا ہے؛ اسی طرز پر نایاب معدنیات میں سرمایہ کاری ایک نیا، قیمتی ریونیو اسٹریم فراہم کر سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو خام دھاتوں کی برآمد کے جال سے بچنا ہوگا۔ وہ ممالک جو قدر میں اضافے کی زنجیر پر آگے بڑھتے ہیں، یعنی کان کنی سے ریفائننگ اور پرزہ جات کی تیاری تک، وہ زیادہ روزگار، زیادہ محصولات اور صنعتی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے اس کا مطلب ہے کہ وہ ریفائننگ اور میگنٹ پروڈکشن کے مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچرز) قائم کرے، دھاتوں کے مقامی ماہرینِ کو تربیت دے اور ٹیکنالوجی کی اندرونِ ملک منتقلی یقینی بنائے۔
تاہم راستہ کٹھن ہے۔ کئی رکاوٹیں، خطرات اور خدشات منڈلا رہے ہیں۔
چین کے اس شعبے سے عملاً الگ ہونے کے بعد پاکستان کو مغربی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہوں گے، جو شفاف معاہدوں اور قانونی پیشبینی پر زور دیتے ہیں۔
نایاب معدنیات کے منصوبوں کی تیاری کے لیے اربوں ڈالر کی طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہے، جو اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک پاکستان تنازعات کے حل کا قابلِ اعتماد نظام، سلامتی کی ضمانتیں، سیاسی اتفاقِ رائے اور استحکام فراہم نہ کرے۔
پیچیدہ اجازت نامے، اختیارات کی اوورلیپنگ اور سیاسی غیر یقینی کان کنی کے اوقات کار کو تاخیر یا تعطل میں ڈال سکتے ہیں۔ کئی ذخائر حساس علاقوں میں موجود ہیں، جہاں مقامی آبادی کو فائدہ نہ پہنچنے اور ماحولیاتی تحفظ کی کمی کی صورت میں مزاحمت جنم لے سکتی ہے۔
ماحولیاتی خدشات حقیقی اور سنگین ہیں۔ نایاب معدنیات کی پراسیسنگ اگر درست طریقے سے نہ کی جائے تو زہریلا اثر چھوڑ سکتی ہے۔ پاکستان کو جدید ماحولیاتی معیارات مقرر کرنا ہوں گے، ورنہ بین الاقوامی ردعمل اور مقامی مخالفت دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور کاروباری چیلنجز بھی کم نہیں۔ نایاب معدنیات کی قیمتیں عالمی ٹیکنالوجی کے کاروباری چکروں سے منسلک ہیں؛ برقی گاڑیوں یا سیمی کنڈکٹرز کی مانگ میں کمی منافع کو تیزی سے گھٹا سکتی ہے۔
یہ صنعت، جو کھربوں ڈالر کی منڈی بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، آئندہ چند برسوں میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اسلام آباد کو تین محاذوں پر بیک وقت عمل کرنا ہوگا۔
پہلا، ادارہ جاتی وضاحت (انسٹیٹیوشنل کلیرٹی)، ایک سنگل ونڈو منرل اتھارٹی کا قیام جو تلاش، ماحولیاتی نگرانی اور برآمدی اجازت ناموں کے تمام معاملات سنبھالے تاکہ سرکاری رکاوٹیں کم ہوں۔
دوسرا، قدر میں اضافہ (ویلیو ایڈیشن )، یعنی پاکستان کے اندر ریفائننگ اور پراسیسنگ کے لیے مراعات فراہم کرنا، جو سخت ماحولیاتی ضوابط اور مقامی روزگار سے منسلک ہوں۔
تیسرا، ٹیکنالوجی شراکت داریاں اور تزویراتی اتحاد، امریکا، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ، جو اس وقت نایاب معدنیات کے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہیں۔
پاکستان اپنے معدنی وسائل کو بڑے اقتصادی راہداری منصوبوں سے بھی منسلک کر سکتا ہے۔ معدنیات کی نقل و حمل اور پراسیسنگ کو چین، پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) اور امریکا کی نئی سرمایہ کاری اسکیموں کے ساتھ جوڑنا متوازن پالیسی اور زیادہ منافع یقینی بنا سکتا ہے۔
نایاب معدنیات دراصل صاف توانائی کے دور کا تیل ہیں، مگر صرف ان ممالک کے لیے جو انہیں مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں نکالنے اور پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ موقع وسیع مگر عارضی ہے۔آئندہ دو عشروں میں جب توانائی کی منتقلی تیز ہوگی، عالمی طلب اپنی انتہا پر پہنچے گی اور نئے سپلائرز سامنے آئیں گے۔ اگر اسلام آباد آج خود کو ایک قابلِ اعتماد کھلاڑی کے طور پر منوا لے، تو وہ اربوں ڈالر کی برآمدات، مضبوط کرنسی اور صنعتی ترقی کی نئی راہیں حاصل کر سکتا ہے۔
بصورتِ دیگر پاکستان ایک اور وسائل کے زیاں کے منظر کا سامنا کرے گا، معدنیات زمین سے نکال لی جائیں گی، منافع کہیں اور چلا جائے گا اور وعدے ایک بار پھر ادھورے رہ جائیں گے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025