امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو ایکسچینج بائنینس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو معافی دے دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے جمعرات کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے “اپنے آئینی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے مسٹر ژاؤ کو معافی دی ہے، جنہیں بائیڈن انتظامیہ نے کرپٹوکرنسی کے خلاف اپنی جنگ کے تحت نشانہ بنایا تھا۔”
بائنینس نے فوری طور پر اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
چانگ پینگ ژاؤ، جو کرپٹو دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں، نے گزشتہ برس کمپنی کی سربراہی چھوڑ دی تھی جب بائنینس نے امریکی حکومت کے ساتھ 4.3 ارب ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کیا تھا تاکہ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج کے خلاف برسوں سے جاری تحقیقات ختم کی جا سکیں۔
ٹرمپ کی جانب سے ژاؤ کو معافی دیے جانے سے ان کے لیے دوبارہ اس کاروبار میں واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے جس کی بنیاد انہوں نے 2017 میں رکھی تھی۔ وہ چار ماہ کی قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔
ژاؤ کو معافی دینا ان معافیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے جو ٹرمپ نے وائٹ کالر جرائم میں ملوث کارپوریٹ ایگزیکٹوز کو دی ہیں۔
اس سے قبل رواں سال کے آغاز میں انہوں نے کرپٹو ایکسچینج بٹ میکس کے بانیوں کو منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کے مقدمات میں معاف کیا تھا، جبکہ الیکٹرک ٹرک کمپنی نکولا کے بانی کو فراڈ کے جرم میں اور اب بند ہو چکی اسٹارٹ اپ اوزی میڈیا کے ایک ایگزیکٹو کی سزا میں تخفیف کی تھی۔
پاکستانی حکومت نے اپریل میں چانگ پینگ ژاؤ کو پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کا اسٹریٹجک ایڈوائزر مقرر کیا تھا، جسے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے ایک “تاریخی پیش رفت” قرار دیا تھا۔