کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سید مونس علوی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ککی جانب سے حالیہ ٹیرف (بجلی کی قیمت) کے تعین کو غیر معمولی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ریٹ میں بڑی کمی کمپنی کے آپریشنز کو متاثر کر سکتی ہے۔
جمعرات کو جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں مونس علوی نے کہا کہ کے-الیکٹرک نظر ثانی شدہ ٹیرف کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور تمام دستیاب آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا کا یہ ٹیرف ہمارے لیے غیر معمولی ہیں۔
اصل ٹیرف جون 2025 میں آیا تھا؛ اسے طے کرنے میں ڈھائی سال لگے تھے۔ جون سے اب تک، اس پر نظر ثانی کی گئی ہے اور اس میں کافی حد تک کمی کر دی گئی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم اس ٹیرف کے ساتھ کے-الیکٹرک کو کس طرح چلائیں گے اور سپلائی کو کیسے سنبھالیں گے۔
یہ ردعمل نیپرا کی وفاقی حکومت کی پچھلی ٹیرف کی تعین کے خلاف دائر درخواست کے جائزے کے چند دن بعد سامنے آیا جس کے نتیجے میں مالی سال 24 سے مالی سال 2030 کی مدت کے لیے کے-الیکٹرک کے ملٹی-ایئر بیس ٹیرف میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ریگولیٹر (نیپرا) نے اپنے اوسط ٹیرف کو 32.37 روپے فی یونٹ تک کم کر دیا جو پہلے کی تعین 39.97 روپے فی یونٹ (27 مئی 2025 کو اعلان شدہ) کے مقابلے میں ہے۔
مونس علوی نے کہا کہ کے ای اور اس کی ٹیم نیپرا کے فیصلے کے اثرات کا تجزیہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے، ہم بجلی کی سپلائی کو بلاتعطل رکھنے کی کوشش کریں گے لیکن جب اس طرح کا مالیاتی اثر پڑتا ہے، تو یہ ہمارے آپریشنز پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
علوی نے مزید کہا کہ کے ای اس نئے ٹیرف کے ساتھ تمام دستیاب آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لیے اور کراچی کے لوگوں کے لیے بہترین کوشش کریں گے۔
اس سے قبل منگل کو، پاور یوٹیلیٹی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے اپنے نوٹس میں کہا تھا کہ نیپرا کا فیصلہ کے ای کے لیے پائیدار نہیں ہو گا اور اس کے صارفین سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے بھی اس کے اہم نتائج برآمد ہوں گے۔
نئے تعینات شدہ فیصلوں کے مطابق، نیپرا نے کے ای کے 50 ارب روپے کے رائٹ آف کلیمز پر اپنے پچھلے فیصلے کو برقرار رکھا جس میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کو زیرِ بحث فیصلے میں ترمیم یا تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
تاہم، ریگولیٹر نے ٹرانسمیشن، جنریشن، اور سپلائی ٹیرف سے متعلق اپنے پہلے کے فیصلوں کے بعض پہلوؤں میں ترامیم کی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ کے-الیکٹرک کو اس نظرثانی شدہ ٹیرف کے بعد مالی سال 2024 میں تقریباً 79 ارب روپے کا منفی آمدنی کا اثر ہو سکتا ہے جو کہ فی شیئر 2.9 روپے کے نقصان کے برابر ہے۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ ہمارا اندازہ (ریٹ آف ایکویٹی) ادائیگیوں میں تبدیلیوں اور مالی سال 2024 کے لیے ٹی اینڈ ڈی نقصانات کو 16 فیصد اور وصولی کے تناسب کو 91.5 فیصد فرض کرتا ہے جبکہ نیپرا کے بینچ مارکس بالترتیب 9.71 فیصد اور 100 فیصد ہیں۔
بروکرج ہاؤس نے مزید کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ کمپنی اسی کے مطابق مالی سال 2024 کے مالیاتی گوشواروں کو دوبارہ جاری کرے گی۔