پاکستان کی اسمارٹ فون مارکیٹ خطے کی سب سے زیادہ مسابقتی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس میں اب بھی نمایاں ترقی کی گنجائش موجود ہے۔ ملک میں ہر ماہ تقریباً 14 سے 15 لاکھ اسمارٹ فونز فروخت ہوتے ہیں۔
جب کہ 14 سے زائد برانڈز مارکیٹ شیئر کے حصول کے لیے سرگرم ہیں، اس کے باوجود انفرااسٹرکچر اور ڈیجیٹل رسائی کی کمی کے باعث کئی مواقع تاحال غیر استعمال شدہ ہیں۔
صنعتی اندازوں کے مطابق ملک کی 38 فیصد آبادی کو ابھی تک فور جی انٹرنیٹ تک مناسب رسائی حاصل نہیں، جس سے لاکھوں افراد اب بھی فیچر فون استعمال کر رہے ہیں۔ یہی بڑھتی ہوئی کنیکٹیویٹی کی طلب پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے تیزی سے ترقی کرنے والے بازاروں میں شامل کر رہی ہے۔
چینی کمپنی ژیاؤمی عالمی سطح پر مسلسل 20 سہ ماہیوں سے دنیا کی تیسری بڑی اسمارٹ فون ساز کمپنی ہے۔ پاکستان میں یہ برانڈ ژیاؤمی کے مشرقِ وسطیٰ ڈویژن میں ترکی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جو اس کی علاقائی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ژیاؤمی پاکستان کے ہیڈ آف مارکیٹنگ صفیان احمد کے مطابق مقامی مارکیٹ میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، جو بہتر قوتِ خرید اور انفرااسٹرکچر سے دگنی ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی میں ٹرانسشن گروپ (ٹیکنو، انفنکس) 44 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ سرفہرست رہا، ژیاؤمی 18 فیصد کے ساتھ دوسرے، ویوو 17، سام سنگ 10 اور اوپو 6 فیصد پر رہے۔تاہم ژیاؤمی کی گزشتہ سال کے مقابلے میں شپمنٹس میں 41 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی، جس کی وجہ صارفین کا فون زیادہ عرصے تک استعمال کرنا بتایا گیا۔
پاکستان میں 95 فیصد فروخت چھوٹے ریٹیلرز کے ذریعے ہوتی ہے۔ ژیاؤمی نے خریداروں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے بڑے شاپنگ مالز میں فلیگ شپ اسٹورز قائم کیے ہیں جبکہ کراچی کے صدر اور سرینا مارکیٹس اب بھی فروخت میں نمایاں ہیں۔
کمپنی پانچ مقامی ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ کام کر رہی ہے جن میں ایئرلنک کمیونیکیشن سب سے بڑا پارٹنر ہے، جو ژیاؤمی کی 85 فیصد مقامی تیاری انجام دیتا ہے۔
ژیاؤمی اب اسمارٹ فونز کے ساتھ دیگر مصنوعات کی تیاری میں بھی قدم بڑھا رہی ہے اور ایئرلنک کے تعاون سے مقامی طور پر اسمارٹ ٹی وی تیار کر رہی ہے، جن کی نئی سیریز دسمبر میں متعارف کرائی جائے گی۔