وزیرِاعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے متعلق آگاہی، بروقت تشخیص اور بہتر علاج کو فروغ دینے کے لیے مضبوط قومی اقدامات پر زور دیا ہے، اور اس مرض کے بڑھتے ہوئے اثرات پر قابو پانے کے لیے حکومتی و سماجی اشتراکِ عمل کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
عالمی یومِ آگاہی برائے چھاتی کے سرطان (19 اکتوبر) کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیرِاعظم نے کہا کہ اکتوبر کا مہینہ اس عزمِ نو کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم اس مہلک مرض کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کے لیے اجتماعی طور پر کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ اگر بیماری کی ابتدائی تشخیص ہو جائے تو صحت یابی کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں، تاہم پاکستان میں تاخیر سے تشخیص ہونا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو سرکاری سطح پر اقدامات اور عوامی احتیاطی تدابیر کے ذریعے حل کرنا ناگزیر ہے۔
وزیرِاعظم نے بالخصوص دیہی علاقوں میں آگاہی بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو چاہیے کہ علامات کو چھپانے کے بجائے فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔ ان کے مطابق شہری علاقوں میں آگاہی کی سطح میں بہتری آئی ہے، مگر اب یہ مہم زیادہ مؤثر انداز میں دور دراز علاقوں تک پھیلائی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ قومی صحت خدمات ملک بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور مقامی طبی عملے کے ذریعے بروقت تشخیص اور علاج کی آگاہی بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔
وزیرِاعظم نے بتایا کہ ایک ملکی سطح کی مہم خاموشی توڑیں — بروقت تشخیص زندگی بچاتی ہے کے عنوان سے جاری ہے، جو میڈیا اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے عوامی آگاہی کو فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چھاتی کے سرطان سے متعلق قومی سطح پر اعداد و شمار کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے اور اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تشکیل دی جا رہی ہے۔
وزیرِاعظم نے وزارتِ صحت کی جانب سے تشخیصی مراکز اور تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینار منعقد کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کیا، مگر اس بات پر زور دیا کہ مزید مضبوط، مربوط اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اس مرض کے خاتمے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی ہر گھر اور ہر خاتون تک پہنچائی جائے گی، تاکہ بروقت تشخیص کے ذریعے قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔