سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے اکثریتی فیصلے کے تحت تین شکایات پر کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایک شکایت کو متفقہ طور پر مؤخر کردیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہفتہ کے روز سپریم کورٹ کی عمارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عدالتِ عظمیٰ کے دو سینئر ججز — جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر — ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے بالمشافہ شرکت کی۔

کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر 67 شکایات کا جائزہ لیا، جن میں سے 65 شکایات کو متفقہ طور پر خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک شکایت مؤخر کردی گئی جبکہ تین پر کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

بعد ازاں، آئین کے آرٹیکل 209 (3)(b) کے تحت کونسل کی ازسرِ نو تشکیل کی گئی، جس میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کو شامل کیا گیا کیونکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایجنڈے کے بعض معاملات میں شرکت سے معذرت کی تھی۔

نئی تشکیل شدہ کونسل نے مختلف افراد کی جانب سے دائر سات شکایات کا جائزہ لیا، جن میں سے پانچ کو متفقہ طور پر خارج اور دو شکایات کو اکثریتی فیصلے سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

کونسل کے مطابق موجودہ اجلاس میں زیرِ غور 74 شکایات کے فیصلوں کے بعد ابتدائی غور کے منتظر مقدمات کی تعداد 87 رہ گئی ہے، جبکہ اکتوبر 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 155 شکایات پر کارروائی کی جا چکی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جو ایس جے سی کے چیئرمین بھی ہیں، نے کونسل کے 12 جولائی 2025 کے فیصلے کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کے ضابطہ اخلاق میں بعض ترامیم تجویز کیں، جنہیں تفصیلی غور و خوض کے بعد اکثریتی فیصلے سے منظور کیا گیا۔ ان ترامیم کو سرکاری گزٹ میں شائع کرنے، اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججز کو ارسال کرنے اور سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔

ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق کے مطابق جج کسی بھی عوامی تنازع، سیاسی سوال یا میڈیا سے متعلق مباحثے میں شریک نہیں ہوگا۔ جج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے اثر و رسوخ کو کسی ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کرے اور مقدمات کے جلد فیصلے کو یقینی بنائے۔

مزید کہا گیا ہے کہ کوئی جج ایسی کسی اتھارٹی کی حمایت نہیں کرے گا جو آئینی دائرہ کار سے ہٹ کر طاقت حاصل کرے۔ ججز کو سماجی، ثقافتی، سیاسی یا سفارتی تقریبات میں شرکت سے بھی اجتناب کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ غیر ملکی اداروں سے براہِ راست دعوت نامہ قبول کرنا بھی بدعنوانی تصور کیا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025