امریکی ٹیرف میں اضافے سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے بیسنٹ اور چینی نائب وزیرِاعظم کی ملاقات آج متوقع
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ملائیشیا میں چینی نائب وزیرِاعظم ہی لی فینگ سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں، تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ناقابلِ برداشت قرار دیے گئے چینی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافے کے امکان کو روکنے کی کوشش کی جا سکے۔
بیسنٹ نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس کی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا اور جمعے کی شام ہی کے ساتھ ہونے والی فون کال کے بعد ملاقات کے منصوبے کی تصدیق بھی کی ہے۔ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر کہا ہے کہ دونوں عہدیداروں نے ”امریکا اور چین کے درمیان تجارت سے متعلق کھلی اور تفصیلی بات چیت“ کی ہے۔
بیسنٹ نے لکھا ہے کہ ”ہم آئندہ ہفتے بالمشافہ ملاقات کریں گے تاکہ اپنی گفتگو کو آگے بڑھا سکیں۔“
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق، ہی لی فینگ اور اسکاٹ بیسنٹ نے ویڈیو کال کے دوران دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کے اہم امور پر “کھلی، جامع اور تعمیری بات چیت” کی، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ نئی تجارتی مذاکراتی نشست جلد از جلد منعقد کی جائے۔
دونوں عہدیدار اس سے قبل چھ ماہ کے دوران یورپ کے چار مختلف شہروں میں ملاقاتیں کر چکے ہیں، جن میں ٹیرف پر عائد تین ہندسوں تک پہنچ جانے والی شرحوں کو کم کرنے کے لیے ایک عارضی معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ 10 نومبر کو ختم ہو رہا ہے۔
ملائیشیا میں ہونے والی ممکنہ ملاقات کا مقام جنوب مشرقی ایشیا کے ایک ایسے برآمدی ملک کی جانب منتقلی ہوگی جو چین اور امریکا، دونوں کے ساتھ بڑی تجارتی سرگرمیوں میں شامل ہے، اور جس کی مصنوعات پر اس وقت صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد 19 فیصد ٹیرف لاگو ہے۔ ملائیشیا کو قومی سلامتی سے متعلق تجارتی جائزے کے تحت سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانک آلات پر 100 فیصد امریکی ٹیرف کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز چین پر تازہ تعطل کی ذمہ داری عائد کی، جو کہ نایاب ارضی معدنیات اور مقناطیسی دھاتوں کی برآمدات پر بیجنگ کی نئی پابندیوں سے جڑا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چین نے یہ پابندیاں واپس نہ لیں تو یکم نومبر سے چینی درآمدات پر مزید 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اتنی بلند شرحِ ٹیرف پائیدار ہے اور اس کا امریکی معیشت پر کیا اثر پڑے گا، تو ٹرمپ نے جواب دیا: “یہ پائیدار نہیں، مگر یہی موجودہ شرح ہے۔”
انہوں نے فاکس بزنس نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، “انہوں نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔”
ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی کہ امریکا نئی برآمدی پابندیاں عائد کر سکتا ہے، جن کے تحت “تمام اہم سافٹ ویئر” کی فراہمی روک دی جائے گی۔
یہ تجارتی اقدامات چین کی جانب سے نایاب ارضی عناصر پر برآمدی کنٹرول میں نمایاں اضافے کے ردِعمل کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔ ان عناصر کی عالمی منڈی پر چین کی بالادستی ہے، جو ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔
جمعے کو صدر ٹرمپ نے چین کے حوالے سے اپنا لہجہ قدرے نرم کرتے ہوئے کہا کہ چینی درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف ناقابلِ برداشت ہوگا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندہ جیمیسن گریئر نے بدھ کے روز ان پابندیوں کو عالمی سپلائی چینز کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ دو ہفتے بعد جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے، اور ان کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ “میرا خیال ہے کہ ہمارا چین کے ساتھ معاملہ ٹھیک رہے گا، مگر ہمیں ایک منصفانہ معاہدہ چاہیے — یہ لازماً منصفانہ ہونا چاہیے۔”
بعدازاں جب وہ وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہے تھے تاکہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر بات چیت ہو سکے، تو ٹرمپ نے کہا: “چین بات چیت کرنا چاہتا ہے، اور ہمیں بھی چین سے بات کرنا پسند ہے۔”
ان کے نرم لہجے اور صدر شی سے ملاقات کے عزم کے اعلان نے جمعے کو وال اسٹریٹ میں ابتدائی مندی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بڑے اشاریے، جو گزشتہ ہفتے چینی درآمدات پر اچانک بلند ٹیرف کے نفاذ اور علاقائی بینکوں میں قرضوں سے متعلق خدشات کے باعث دباؤ میں تھے، دوپہر کے کاروبار میں بحالی کی جانب گامزن دکھائی دیے۔
عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے تجارتی تنازعات میں کمی کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکا اور چین، کے درمیان علیحدگی کی صورت میں طویل مدت میں عالمی معاشی پیداوار 7 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔
ڈبلیو ٹی او کی سربراہ نگوزی اوکونجو اِویالا نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ادارہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی سے شدید طور پر فکرمند ہے اور دونوں ممالک کے حکام سے رابطہ کر کے مکالمے میں اضافے کی ترغیب دی ہے۔
تاہم، کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آئے، حالانکہ ٹرمپ اور شی جن پِنگ ملاقات کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
اس موقع پر امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں اپنے بیان میں چین کی ریاستی اثر و رسوخ والی اقتصادی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا۔ انہوں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ چین کے بیرونی و اندرونی عدم توازن اور صنعتی پالیسیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں، جن کے باعث امریکی حکام کے مطابق چین نے ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت پیدا کر لی ہے اور دنیا میں سستے مصنوعات کی بھرمار کر دی ہے۔
دوسری جانب چین کی وزارتِ تجارت نے جمعے کو الزام لگایا ہے کہ امریکا نے 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے قواعد پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔ وزارت نے عزم ظاہر کیا کہ وہ عالمی تجارتی تنظیم میں تنازعات کے حل کے طریقہ کار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے گی۔
بیان میں امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امتیازی سلوک پر مبنی اقدامات واپس لے اور اپنی صنعتی و سلامتی پالیسیوں کو ڈبلیو ٹی او کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔
بیسنٹ نے اس سے قبل ہفتے کے اوائل میں الزام عائد کیا تھا کہ چینی نائب وزیرِاعظم ہی لی فینگ کے ایک سینئر معاون نے حالیہ مذاکرات میں ”غیر متوازن“ رویہ اختیار کیا۔ چین نے جمعے کو ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بیسنٹ کے یہ ریمارکس حقائق کو بری طرح مسخ کرنے کے مترادف ہے۔