امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے ناقد جان بولٹن پر خفیہ معلومات کے غلط استعمال کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی۔ وہ جمعے کو عدالت میں پیش ہوں گے۔
استغاثہ کے مطابق بولٹن نے حساس معلومات اپنی بیوی اور بیٹی سے کتاب کی تیاری کے دوران شیئر کیں، جن میں انٹیلی جنس بریفنگز اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے نوٹس شامل تھے۔
بولٹن نے الزام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی عمل کا دفاع اور ٹرمپ کے اختیارات کے غلط استعمال کو بے نقاب کریں گے۔ ان کے وکیل ایبی لووَل کے مطابق، بولٹن نے کوئی غیرقانونی اقدام نہیں اٹھایا۔
ٹرمپ جو 2021 کے بعد سے اپنے ناقدین کے خلاف کارروائیاں تیز کر چکے ہیں نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی اور نیویارک کے اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کے خلاف بھی تحقیقات پر زور دیا تھا۔
فردِ جرم کے مطابق بولٹن پر جاسوسی ایکٹ کے تحت قومی دفاعی معلومات کی ترسیل اور رکھ رکھاؤ کے 18 الزامات لگائے گئے ہیں، جن کی سزا ہر ایک کے لیے 10 سال تک ہو سکتی ہے۔
بولٹن جو پہلے اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر بھی رہ چکے ہیں ٹرمپ کو اپنی کتاب میں صدر کے منصب کے لیے ناموزوں قرار دے چکے ہیں،جس پر ٹرمپ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا وہ برا آدمی ہے۔