انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 281.11 روپے پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 281.12 روپے پر بند ہوئی تھی۔

بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی کیونکہ چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جبکہ اس سال امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات نے بھی ڈالر پر دباؤ ڈالا۔

یورو ابتدائی کاروبار میں 0.14 فیصد بڑھ کر 1.1664 ڈالر تک پہنچ گیا، جو ایک ہفتے کی بلند ترین سطح ہے۔ ین (جاپانی کرنسی) بھی مضبوط ہو کر فی ڈالر 150.52 کی ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ڈالر انڈیکس 0.16 فیصد کمی کے ساتھ 98.512 پر آ گیا اور ہفتہ وار بنیاد پر 0.33 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی پر مرکوز ہے، کیونکہ امریکی حکام نے چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیوں میں توسیع کو عالمی سپلائی چینز کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

چین کی وزارتِ تجارت نے ان پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود چینی مصنوعات اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے، اس لیے امریکی تنقید منافقانہ ہے۔

تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کے توازن کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہیں، جمعرات کو مستحکم رہیں کیونکہ تاجروں نے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات ممکنہ طور پر روکنے کے امکانات کے پیشِ نظر حکمتِ عملی تیار کی۔ یہ پیش رفت عالمی تیل کی رسد کے بہاؤ کو بدل سکتی ہے اور دیگر ذرائع سے طلب میں اضافہ کر سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا۔ روس بھارت کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی کل درآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ روس سے آتا ہے۔

جمعرات کو انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے نرخ:قیمت خرید: 281.11 روپےقیمت فروخت: 281.31 روپے