وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قیمتوں میں اضافے پر سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی ) اور یوریا کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور آگے کے لائحہ عمل کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کمیٹی میں وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ (کنوینر)، وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے توانائی عبد الرحمان خان کانجو اور احمد عمیر شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ فوری طور پر اجلاس طلب کرے تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پیٹرولیم ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ایک سمری پیش کی جس میں تین کھاد سازی کی فیکٹریوں،دو پنجاب میں اور ایک کراچی میں کو ملکی گیس مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی ) کی قیمتیں، جو بین الاقوامی مارکیٹ سے منسلک ہیں، ملکی سطح پر فی بیگ 500 روپے بڑھ گئی ہیں۔ دوسری جانب یوریا مبینہ طور پر مارکیٹ کی قیمت سے فی بیگ 300 روپے کم میں فروخت ہو رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حال ہی میں گندم کی فصل کے تخمینے اور قومی گندم پالیسی کے اجلاس کے دوران ایک کابینہ رکن نے اجاگر کیا ۔

اسی دوران فرٹیلائزر مینوفیکچررز آف پاکستان ایڈوائزری کونسل (ایف ایم پی اے سی) نے مختلف وزراء اور سیکرٹریز کو ایک خط لکھ کر معاملے کو فوری حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان کی کھاد سازی کی صنعت میں 10 اسٹریٹجک مقامات پر قائم فیکٹریاں شامل ہیں۔ یہ سرمایہ کی کثیر لاگت والی صنعت جس کی متبادل مالیت 8.5 ارب امریکی ڈالر ہے میں 10 ملین ٹن کمپلیکس کھادیں تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس میں سے 7 ملین ٹن یوریا ہے۔ یہ صنعت قومی خوراک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور معاشی خوشحالی میں معاونت کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025