دبئی میں جاری بین الاقوامی ٹیکنالوجی نمائش گیٹیکس گلوبل میں پاکستان کی 100 سے زائد ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ایک ہزار مندوبین نے بھرپور شرکت کے ساتھ ملک کی نمایاں موجودگی درج کرائی، جس کا مقصد پاکستان کو ایک ابھرتے ہوئے عالمی ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر اُجاگر کرنا ہے۔
13 اکتوبر سے شروع ہونے والے پانچ روزہ اس ایونٹ میں مختلف ممالک سے تجارتی خریدار، اعلیٰ کارپوریٹ حکام اور ہزاروں ٹیکنالوجی ادارے شریک ہیں۔
نمائش میں پاکستان کی بڑی اور درمیانے درجے کی آئی ٹی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور فِن ٹیک ادارے شامل ہیں۔ منتظمین کے مطابق پاکستانی کمپنیاں اپنے بین الاقوامی ذیلی اداروں اور مشترکہ منصوبوں کے ساتھ بھی اس ٹریڈ فیئر میں حصہ لے رہی ہیں۔
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ اس سال گیٹیکس دبئی میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی بڑی تعداد میں شرکت گزشتہ سال نمائش میں ان کی مؤثر شمولیت اور مثبت کاروباری ردِعمل کا نتیجہ ہے۔
ان کے مطابق پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے گذشتہ سال کی نمائش کے دوران عالمی خریداروں اور سرمایہ کاروں سے مضبوط روابط استوار کیے، جس کے باعث اس مرتبہ مزید کمپنیوں نے بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے گیٹیکس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔
دبئی میں جاری دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی نمائش گیٹیکس گلوبل میں پاکستان کی 100 سے زائد آئی ٹی کمپنیوں اور 1,000 سے زیادہ مندوبین کی بھرپور شرکت ملک کے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی عکاسی کر رہی ہے۔
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ “گیٹیکس گلوبل دبئی واحد بین الاقوامی تجارتی نمائش ہے جہاں پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں ہر سال اجتماعی طور پر سب سے بڑی تعداد میں شرکت کرتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ پاکستان میں آئی ٹی سی این ایشیا میں کرتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کو خلیجی خطے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک سے بھی نئے کلائنٹس حاصل ہوں گے۔
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ( ٹی ڈی اے پی ) اور ٹیک ڈیسٹی نیشن نے پاکستان پویلین قائم کیا ہے جس میں 26 سرکردہ آئی ٹی کمپنیاں اور 10 اسٹارٹ اپس اپنی مصنوعات، سافٹ ویئر ایکسپورٹس، مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Connexons Lounge کے نام سے خصوصی نیٹ ورکنگ ایریاز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ پاکستانی شرکاء کے لیے کاروباری ملاقاتیں آسان بنائی جا سکیں۔
محمد زوہیب خان، سابق چیئرمین پاشا اور نمائش میں شریک ایکزبیٹر، نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اور تجارتی ادارے خلیجی ممالک کو غیر روایتی مارکیٹوں میں آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے فوکس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق:
“پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات خلیجی ممالک میں بڑھ رہی ہیں، خاص طور پر اُن ممالک میں جن کے اقتصادی منصوبے وژن 2030 اور وژن 2035 جیسے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر مبنی ہیں۔ تاہم، اس شعبے میں برآمدات کو کئی گنا بڑھانے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی کمپنیوں نے بڑے کلائنٹس کے ساتھ شراکت داری کے لیے مقامی سطح پر جوائنٹ وینچرز بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اور ان کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ایک مربوط پالیسی کے تحت آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
نجی شعبے کے ساتھ ساتھ نیشنل آئی ٹی بورڈ ( این آئی ٹی بی ) اور نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم ( این سی ای آر ٹی ) جیسے سرکاری ادارے بھی اس نمائش میں شریک ہیں۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ بھی موقع پر مختلف یادداشتوں (ایم او یوز ) پر دستخط اور حکومت سے حکومت (جی ٹو جی ) ملاقاتیں کر رہی ہیں۔
ہیگزلائز کے سی ای او سعد شاہ نے کہا کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں اب اپنی توسیعی حکمتِ عملی کے تحت امریکی مارکیٹ سے ہٹ کر خلیجی ممالک پر فوکس کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق “گیٹیکس گلوبل پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی سطح پر اپنی برآمدی پورٹ فولیو میں وسعت دینے کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔”
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی کمپنیاں مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افریقہ کے تجارتی خریداروں کو اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کر کے اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتی ہیں۔
نمائش کے 45 ویں ایڈیشن میں 6,500 ایکزبیٹرز، 1,800 اسٹارٹ اپس اور 1,200 سرمایہ کار شریک ہیں، جبکہ دنیا کے 180 سے زائد ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس میں حصہ لے رہی ہیں۔