پاکستان اور ترک سرکاری کمپنیوں کے درمیان سمندر میں تیل و گیس کی مشترکہ تلاش کا معاہدہ
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے ترکی کی قومی تیل کمپنی ٹی پی اے او کے ذیلی ادارہ ترک پیٹرولیم اوورسیز کمپنی ٹی پی او سی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جو مشرقی سمندر کے کنارے انڈس سی بلاک میں فارم آؤٹ کے عمل کے تحت قائم کی گئی ہے۔
پی پی ایل نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائی گئی فائلنگ میں بتایا کہ اس شراکت داری کا مقصد تیل و گیس کی تلاش کو فروغ دینا اور پاکستان و ترکی کے درمیان توانائی کے تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ شراکت داری دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطح کی بات چیت اور تعاون کا نتیجہ ہے، جس کا ہدف توانائی کے شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)کو بڑھانا ہے۔
پی پی ایل نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسٹرن آف شور انڈس سی بلاک کے فارم آؤٹ کے عمل میں یہ اہم سنگ میل ہے جو پاکستان اور ترکی کے درمیان طویل المدتی توانائی شراکت داری کی سمت میں اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت پی پی ایل نے بلاک کی آپریٹر شپ ترک کمپنی ٹی پی او سی کو منتقل کر دی ہے، جو ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط ہے۔ پی پی ایل کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے آف شور ایکسپلوریشن آپریشنز میں بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کو شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
مزید برآں پی پی ایل نے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور ماری انرجی لمیٹڈ (ماری اینرجیز ) کو بھی فارم آؤٹ عمل میں شریک کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق چاروں اداروں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت پی پی ایل ٹی پی او سی کو 25 فیصد شراکت اور آپریٹر شپ، جبکہ او جی ڈی سی ایل اور ماری انرجی کو 20، 20 فیصد شراکت تفویض کرے گا۔ پی پی ایل بقیہ 35 فیصد حصہ برقرار رکھتے ہوئے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پی پی ایل کا کہنا ہے کہ یہ اشتراک پاکستان کے آف شور ہائیڈروکاربن وسائل کے امکانات کو اجاگر کرنے اور پاکستان ترکی توانائی تعلقات کو ایک نئی جہت دینے میں معاون ثابت ہوگا۔