انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 281.17 روپے کا ہوگیا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 281.20 روپے پر بند ہوئی تھی۔

عالمی سطح پر جاپانی ین جمعہ کو ایک سال کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی طرف بڑھ رہا تھا، کیونکہ سرمایہ کار اس سال مزید شرحِ سود میں اضافے کے تیزی سے کم ہوتے امکانات پر پریشان دکھائی دیے۔ جاپان کے ممکنہ نئے وزیرِاعظم کے بیانات بھی مارکیٹ کے خدشات کم نہ کرسکے۔

ابتدائی ایشیائی تجارتی اوقات میں جاپانی ین آخری بار فی امریکی ڈالر 153.12 کی سطح پر مستحکم رہا، جو فروری کے وسط کے بعد سے اپنی کمزور ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپانی کرنسی اس ہفتے تقریباً 4 فیصد کی کمی کی جانب گامزن ہے جو گزشتہ سال اکتوبر کے اوائل کے بعد اس کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

ین کی نمایاں گراوٹ کی بنیادی وجہ یہ خدشات ہیں کہ جاپان کے مرکزی بینک کی جانب سے مالیاتی نرم روی کی حامی سنے تاکائچی کی غیر متوقع فتح کے بعد رواں سال دوبارہ شرحِ سود میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ جاپانی حکام کو مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے۔

یورو کی آخری قیمت 1.15635 ڈالر رہی جو جمعرات کو چھوئی گئی دو ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ہے اور ہفتے کے دوران 1.5 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے جو 11 ماہ کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ فرانس میں سیاسی عدم استحکام نے یورو پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

اس صورتِ حال نے امریکی ڈالر کو سہارا دیا ہے جس کے نتیجے میں ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی چھ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر کو ظاہر کرتا ہے 99.4 پر پہنچ گیا، جو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یہ انڈیکس اس ہفتے 1.7 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے جو ایک سال میں سب سے بڑی تیزی ہے۔

سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق تاجروں کا اندازہ ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو اکتوبر کے اجلاس میں شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس (0.25 فیصد) کی کمی کرے گا، جس کے امکانات 95 فیصد ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران دسمبر میں مزید کمی کے امکانات 90 فیصد سے گھٹ کر 80 فیصد رہ گئے ہیں۔