الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعرات کے روز ایک بڑے سیاسی فیصلے کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے تمام ارکانِ اسمبلی کو آزاد امیدوار قرار دے دیا، جو 25 اگست کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہے۔

ای سی پی کی جانب سے جاری باضابطہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی حمایت سے کامیاب ہونے والے ارکان کی اب کسی جماعت سے باضابطہ وابستگی تسلیم نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں — پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ — کے ریکارڈ میں انہیں آزاد حیثیت میں درج کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ ملک کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات ڈالنے والا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا میں، جہاں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بدھ کے روز پارٹی کے بانی عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دے دیا۔ آئندہ چند دنوں میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا امکان ہے، جس سے صوبے میں سیاسی طاقت کا توازن بڑی حد تک تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔

اب چونکہ یہ ارکان پارٹی نظم و ضبط سے آزاد ہو چکے ہیں، اس لیے وہ اپنی مرضی سے کسی بھی گروہ یا اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں، جو اسمبلی کے اندر نئی صف بندیوں یا ممکنہ تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔

ای سی پی نے واضح کیا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی قوانین کی تشریح کے مطابق ہے، جس کے تحت متاثرہ ارکان کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کو آئینی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

علاوہ ازیں، الیکشن کمیشن نے این اے-1 چترال اپر کم چترال لوئر کی نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان کیا ہے۔ یہ نشست رکن قومی اسمبلی عبداللطیف کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی، جنہیں آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت نااہل قرار دیا گیا۔

ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق پولنگ 23 نومبر (اتوار) کو ہوگی۔ امیدوار 15 سے 17 اکتوبر تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے، جانچ پڑتال 22 اکتوبر کو ہوگی، جبکہ انتخابی نشانات 6 نومبر کو الاٹ کیے جائیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025