پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مصالحتی کوششوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلیفون کیا اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، سیلاب اور خارجہ پالیسی پر تبادلہ خیال کیا۔یہ بات پیپلز پارٹی نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہی۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) (پی ایم ایل این) کے درمیان پنجاب میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے معاوضے کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ۔
سیلاب کے بعد امداد کی تقسیم کے معاملے نے وفاقی حکومت میں شامل دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ سیلاب متاثرین کو امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے فراہم کی جائے ، تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے، تاہم پنجاب حکومت اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہے۔
امدادی میکانزم پر اختلافات ختم کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ رہے اور پیپلز پارٹی نے پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ حکومت کی جانب سے اپنے اتحادی کو منانے کی کوششیں جاری ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کی دعوت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رواں ہفتے کراچی میں ان سے ملاقات کی، جس میں سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق زرداری نے پنجاب حکومت کے ترجمانوں کے سخت بیانات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے سیاسی ماحول کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔
جمعرات کی صبح صدر زرداری نے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے نوابشاہ میں اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
سیلاب متاثرین کے معاملے پر جاری یہ کشیدگی حکومت کے لیے نیا سیاسی امتحان بن گئی ہے۔