آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر، 1.25 ارب ڈالر کے قرض کا اجرا رک گیا، ماہرین
- مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ غور مسائل معمولی ہیں؛ توقع ہے کہ دو سے چار ہفتوں میں اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچنے میں ناکام رہے کیونکہ قرض دہندہ کا 11 روزہ دورہ ملک کا بدھ کو اختتام پذیر ہوا۔ اس سے 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور 28 ماہ کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 1.25 ارب ڈالر کے قرض کی اگلی قسط کے اجرا میں تاخیر ہوگی۔
تاہم، مالی ماہرین کا توقع ہے کہ دونوں فریقین مسائل طے کریں گے اور آنے والے ہفتوں میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچ جائیں گے۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ اسعد حنیف نے پیش گوئی کی کہ پاکستان اور آئی ایم ایف دو سے چار ہفتوں کے اندر اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچ جائیں گے اور اگلی قسط کا اجرا تین سے چھ ہفتوں میں منظور کرلیا جائیگا۔
ادھر اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ محمد اویس اشرف نے کہا ہے کہ دونوں فریق دو ہفتوں میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچ جائیں گے یا زیادہ سے زیادہ اکتوبر کے آخر تک معاہدہ ہوجائیگا۔
دونوں ماہرین نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ 28 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 کے دوران ای ایف ایف کے دوسرے اقتصادی جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے کے تحت اہم اقتصادی اور ماحولیاتی اہداف پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور زیر التوا مسائل معمولی ہیں۔
اویس اشرف نے وضاحت کی کہ پاکستان آر ایس ایف کی دو قسطیں حاصل کرے گا، ہر ایک کی قیمت 76.9 ملین ایس ڈی آر، جو کل 153.8 ملین ایس ڈی آر (تقریباً 209.7 ملین ڈالر) بنتی ہے۔ ہم ای ایف ایف کے تحت مزید 1,036 ملین ڈالر وصول کریں گے۔ اس سے تقریباً 1.25 ارب ڈالر بنتے ہیں۔
اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آرز) آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر اور برقرار رکھی جانے والی اضافی زر مبادلہ ریزرو اثاثے ہیں۔
اویس اشرف نے کہا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان کی صوبائی حکومتیں بجٹ سرپلس حاصل کریں اور حالیہ سیلابوں کی وجہ سے اقتصادی ترقی پر اثر کے پیش نظر ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں کمی کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ قرض پروگراموں کے دوران آئی ایم ایفف کا اعتماد جیتا ہے۔ آن لائن اجلاس کرنے کے اختیار کی دستیابی کی وجہ سے دونوں فریق زیر التوا مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے، جو اگلے چند ہفتوں میں حل ہو جائیں گے۔
ادھر آئی ایم ایف نے ایک بیان جاری کیا کہ آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام نے ای ایف ایف کے 37 ماہ کے معاہدے کے تحت دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے 28 ماہ کے معاہدے کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔
پروگرام کا نفاذ مضبوط ہے اور وسیع پیمانے پر حکام کی وعدہ شدہ ذمہ داریوں کے مطابق ہے۔