پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو کاروبار کے دوران غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کا سلسلہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان غیر حتمی مذاکرات کے تناظر میں منافع کے حصول کیلئے شیئرز کی فروخت کو ترجیح دی۔
کاروبار نے دن کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور اس کے ابتدائی گھنٹوں میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر بلند ترین سطح 166,729.97 پوائنٹس تک جا پہنچا۔ تاہم دورانِ سیشن حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا اور آخری گھنٹوں میں منافع سمیٹنے کی وجہ سے کے ایس ای 100 انڈیکس 164,306.76 پوائنٹس گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 735.94 پوائنٹس (0.45 فیصد) کمی کے ساتھ 164,530.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔
جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ کے ریسرچ سربراہ وقاص غنی نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ “مارکیٹ اس وقت ایک تیز رجحان والے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مرکزی بینک، فنڈز اور انفرادی سرمایہ کار سبھی سرگرم ہیں۔ قدرتی طور پر کوئی بھی اپنی کامیاب پوزیشنز فروخت کرنے کا خواہاں نہیں، یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا رجحان اب بھی مضبوط ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “سال 2025 کے دوران سونا پہلے ہی 50 فیصد بڑھ چکا ہے اور اب اس کی نظر 4,500 ڈالر کی سطح پر ہے۔ چاندی بھی 2011 کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ رہی ہے اور اگر حالیہ بریک آؤٹ برقرار رہا تو اس میں مزید تیزی ممکن ہے، جیسا کہ طویل المدتی اندازے ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم کاروباری دن کے دوران ہونے والی سرگرمیوں میں منافع خوری کے ابتدائی آثار نمایاں ہیں، جو آئندہ بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ “اتنی تیز رفتار اضافے کے بعد قلیل المدتی مندی کے امکانات موجود ہیں، تاہم مجموعی رجحان اب بھی واضح طور پر مثبت ہے۔”
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق ایچ بی ایل، یو بی ایل، این بی پی، سسٹمز لمیٹڈ اور بینک الفلاح وہ نمایاں حصص رہے جن کی فروخت کی وجہ سے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس سے 639 پوائنٹس کم ہوئے۔ دوسری جانب ایم سی بی، لکی سیمنٹ اور اینگرو میں منتخب خریداری کی بدولت بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 317 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
ایک اہم پیش رفت میں پاکستان اور آئی ایم ایف نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف ) کے تحت ہونے والے جائزہ مذاکرات کے بعد اسٹاف لیول ایگریمنٹ ( ایس ایل اےSLA) کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ واشنگٹن میں قائم مالیاتی ادارے نے اپنے مشن کے اختتام پر یہ اعلان کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق “آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام نے 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ ارینجمنٹ کے تحت دوسرے جائزے اور 28 ماہ کے آر ایس ایف پروگرام کے پہلے جائزے کے حوالے سے اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پروگرام پر عمل درآمد مضبوط اور مجموعی طور پر حکومتی وعدوں کے مطابق ہے۔”
علاوہ ازیں بدھ کو اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا، جس میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کا معاہدہ شامل ہے، ایک ایسا اقدام جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری دو سالہ خونریز جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار غیر مستحکم اور مندی کے رجحان کا شکار رہا کیونکہ ابتدائی گھنٹوں کا مثبت رجحان اداروں کی جانب سے شیئرز کی جارحانہ فروخت کے باعث دم توڑ گئی۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 907 پوائنٹس (0.55 فیصد) کمی کے ساتھ 165,266.75 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نئے ریکارڈ کی بلندیاں چھوئیں، سرمایہ کار اے آئی سے متعلق ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے پر متحرک رہے۔ سونے کی قیمت 4,000 ڈاکر سے اوپر مستحکم رہی جبکہ ڈالر کی قدر مضبوط رہی۔
تیل کی قیمتیں کم ہوئیں کیونکہ اسرائیل اور حماس کے معاہدے سے خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی آئی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاہدے پر مزید اقدامات پر بات کرنے کے لیے رواں ہفتے مصر کا دورہ کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی بحالی کے باعث ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک نے ریکارڈ بلندیاں چھوئیں۔ جاپان کا نکئی 1.5 فیصد بڑھا جبکہ تائیوان کے اسٹاک 1.2 فیصد بڑھ کر نئے ریکارڈ پر پہنچ گئے۔ ایشیا-پیسیفک کے دیگر حصوں میں ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.3 فیصد مستحکم ہوا۔
دریں اثنا انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ نے معمولی بہتری ظاہر کی اور اس کی قدر میں ایک پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 281.20 روپے بند ہوا۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم 1.57 ارب حصص سے کم ہو کر 1.27 ارب حصص رہا، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت 61.13 ارب روپے سے گھٹ کر 50.53 ارب روپے رہ گئی۔
کاروباری حجم کے اعتبار سے پی ٹی سی ایل سرِفہرست رہی جس کے 1 کروڑ 14 لاکھ 32 ہزار حصص کا لین دین ہوا، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 88 لاکھ 5 ہزار اور کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 87 لاکھ 48 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔
جمعرات کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں سے 184 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 264 میں کمی جبکہ 33 کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔