ذرائع کے مطابق سونا درآمد و برآمد سے متعلق معطل شدہ ایس آر او 760(1)/2025 کی بحالی کا معاملہ اب تک وزیراعظم آفس میں زیرِ التوا ہے، حالانکہ وزارتِ تجارت کی جانب سے متعدد یاد دہانیوں کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اس تاخیر کے باعث زیورات کی برآمدات بند اور برآمد کنندگان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔

وزارتِ تجارت کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آل پاکستان اسمال جیمز جیولرز اینڈ ٹولز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط میں اس معاملے پر فوری اقدام کی اپیل کی ہے۔ خط میں بتایا گیا کہ وزارتِ تجارت کی جانب سے 6 مئی 2025 کو جاری کیے گئے حکم کے تحت سونے کی تجارت کو منظم کرنے والا مذکورہ ایس آر او اسمگلنگ کے الزامات کی بنیاد پر 60 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں ایسی کوئی ٹھوس شہادت پیش نہیں کی گئی۔

ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے 6 اگست 2025 کو وزیرِ تجارت جام کمال خان سے ملاقات کی، جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایس آر او کی بحالی کے لیے سمری وزیراعظم آفس کو ارسال کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اب تک تین سمریاں ارسال کی جا چکی ہیں—پہلی 80 روز، دوسری 60 روز اور تیسری 15 روز قبل—مگر تاحال کوئی منظوری نہیں دی گئی۔

ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل قاری محمد اشرف کے مطابق زیورات کی برآمدات چھ ماہ سے زائد عرصے سے معطل ہیں، جو برآمدکنندگان کے لیے اقتصادی قتل کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی خریدار تاخیر کے باعث قانونی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے بھی اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور وزارتِ تجارت کو ہدایت کی تھی کہ وہ وزیراعظم آفس سے رابطہ کر کے مسئلے کو جلد حل کرے۔ تاہم ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

وزیرِ تجارت جام کمال خان نے 8 اگست 2025 کو ایک بار پھر یقین دہانی کرائی کہ ایس آر او جلد بحال کر دیا جائے گا۔ وزارت نے سونے کے برآمدکنندگان کے ساتھ ایک آن لائن مشاورتی اجلاس بھی کیا، جس میں صنعت کے تمام نمائندوں نے کمیٹی کی سفارشات پر اتفاق کرتے ہوئے ایس آر او کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت 50 کلوگرام سونا بندرگاہ پر کلیئرنس کے انتظار میں پھنسا ہوا ہے، جو اس ضابطے کی معطلی سے پیدا ہونے والی انتظامی رکاوٹوں کی ایک مثال ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025