معروف ماہرِ معیشت اسد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان ایک طویل معاشی جمود کے دور میں داخل ہونے کے خطرے سے دوچار ہے کیونکہ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی شرحِ نمو صرف 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ چار سالہ کمزور معاشی کارکردگی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان (آئی کیپ) کے سابق صدر اسد علی شاہ نے کہا کہ ورلڈ بینک کی پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ نے مالی سال 2025-26 کیلئے شرحِ نمو کا تخمینہ کم کرکے 2.6 فیصد کردیا ہے جبکہ حکومت کا نسبتاً پرامید ہدف تقریباً 4 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تخمینہ پچھلے تین سال کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سامنے آیا ہے، مالی سال 2023 میں منفی 0.2 فیصد، 2024 میں 2.5 فیصد، اور 2025 میں 2.7 فیصد، ان کے مطابق یہ پاکستان کی اقتصادی تاریخ کا بدترین چار سالہ عرصہ ہے جس کی تعریف مسلسل کم نمو، ریکارڈ مہنگائی اور شرح سود اور سرمایہ کاری کے اعتماد میں گراوٹ سے ہوتی ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت معمولی بہتری کے ساتھ صرف 2.6 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق تباہ کن سیلابوں نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے جبکہ مہنگائی کے دباؤ دوبارہ بڑھنے لگے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی افراطِ زر سنگل ڈیجٹ تک گر گئی تھی کیونکہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کم ہوا، تاہم خوراک کی سپلائی چین میں خلل اور موسمیاتی بحران 2027 تک مہنگائی میں دوبارہ اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی اسی نقطہ نظر کی تائید کی اور کہا کہ شرحِ نمو کے اعتبار سے مالی سال 2022-23 سے 2025-26 تک کا عرصہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین چار سال ہیں۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نجکاری، وزارتوں کی تنظیمِ نو اور مقامی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے جیسے بنیادی اصلاحاتی اقدامات سے گریز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکام بلند شرحِ سود، بھاری ٹیکسز اور یوٹیلیٹی ٹیرف برقرار رکھ کر کم شرحِ نمو کے ذریعے مصنوعی استحکام خریدنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت اور عوامی بداعتمادی میں اضافہ ہورہا ہے۔
دوسری جانب اسد علی شاہ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت بظاہر مستحکم دکھائی دیتی ہے لیکن اسے حقیقی بحالی نصیب نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق صنعتی پیداوار اب بھی سست روی کا شکار ہے، زرعی شعبہ موسمیاتی جھٹکوں اور پالیسی کی کمزوریوں سے دوچار ہے اور روزگار کے مواقع تقریباً جمود کا شکار ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ استحکام کامیابی نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، گورننس میں بہتری اور وسائل کو پیداواری و برآمدی شعبوں کی طرف منتقل کرنے کے لیے ٹھوس اصلاحات نہ کیں تو پاکستان کے لیے معاشی جمود ہی نیا معمول بن جائے گا۔