بھارت میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں شام کے اوقات میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کر رہی ہیں، حالانکہ ملک صاف توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
اتر پردیش اور آسام کی حکومتیں اگلے دو ماہ میں کم از کم 7 گیگاواٹ کوئلے سے چلنے والی بجلی کی خریداری کے سودوں پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جو 2030 تک فراہم کی جائیں گی۔
انڈیا ریٹنگز اینڈ ریسرچ کے مطابق یہ سودے کووِڈ کے بعد کوئلے کی سب سے بڑی نئی سپلائی لائن کا حصہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیٹری اسٹوریج کی سست رفتار اور ایئر کنڈیشنگ کی بڑھتی طلب نئی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے اور ملک میں کاربن اخراج میں کمی کے اہداف کو متاثر کر سکتی ہے۔
بھارت نے 2035 تک کوئلے سے بجلی کی صلاحیت 210 گیگاواٹ سے بڑھا کر 307 گیگاواٹ کرنے اور 2030 تک غیر فوسل فیول ذرائع کی صلاحیت 500 گیگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اڈانی پاور اور ٹورینٹ پاور نے اربوں ڈالر کے نئے کوئلے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ کوئلے سے بجلی پیدا کرنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے، تاہم کئی بھارتی ریاستیں قابل تجدید توانائی میں تاخیر کے باعث کوئلے کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔