**انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اپنے موجودہ عہدے پر برقرار رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک ملکی قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں۔

ان کا تقرر ستمبر 2024 میں آئی ایس آئی سربراہ کے طور پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو پاک فوج کے بہترین افسران میں شمار کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ مئی میں انہیں قومی سلامتی کے مشیر کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک فوری طور پر قومی سلامتی کے مشیر کا اضافی چارج سنبھالیں گے۔ یہ تعیناتی بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی خاص طور پر پہلگام حملے کے بعد ہوئی۔

آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بننے سے قبل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔

پی ٹی وی نیوز نے رپورٹ کیا ہے اکتوبر2021 میں اس وقت کے میجر جنرل عاصم ملک کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور انہیں فوج کا ایڈجوٹنٹ جنرل مقرر کیا گیا۔ جنرل عاصم ملک نے بلوچستان انفنٹری ڈویژن میں خدمات انجام دی ہیں اور وزیرستان انفنٹری بریگیڈ کی کمان بھی کی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے کورس کے دوران سورڈ آف آنر بھی حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں چیف انسٹرکٹر اور کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں انسٹرکٹر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے امریکہ کے فورٹ لیونورٹ اور لندن کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔