پاکستانی بیٹر سدرہ امین کو بھارت کے خلاف کولمبو میں اتوار کے روز کھیلے گئے آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ میچ کے دوران آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی سی سی نے ایک بیان میں اس پیشرفت کی تصدیق کی ہے۔

سدرہ امین کو ضابطہ اخلاق کی شق 2.2 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا، جو بین الاقوامی میچ کے دوران کرکٹ سازوسامان، لباس، گراؤنڈ کے سازوسامان یا دیگر تنصیبات کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔

یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب بلے باز نے 40ویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد غصے میں آکر بلّا پچ پر دے مارا۔

نتیجتاً، اُن کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈیمرٹ پوائنٹ کا اضافہ کر دیا گیا، جو گزشتہ 24 ماہ کے دوران اُن کی پہلی خلاف ورزی ہے۔

سدرہ امین نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور ایمریٹس آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز سے تعلق رکھنے والی میچ ریفری شاندری فرٹز کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی، جس کے باعث اُنہیں باضابطہ سماعت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

الزام آن فیلڈ امپائروں لورین ایگن بیگ اور نمالی پریرا، تھرڈ امپائر کیرن کلاسٹے اور فورتھ امپائر کم کاٹن کی جانب سے عائد کیا گیا تھا۔

آئی سی سی کے مطابق ضابطہ اخلاق کی سطح پرکی گئی خلاف ورزی پر کم از کم سزا سرکاری سرزنش، زیادہ سے زیادہ 50 فیصد میچ فیس کا جرمانہ اور ایک یا دو ڈیمرٹ پوائنٹس کی شکل میں دی جا سکتی ہے۔