فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشیروں نے بحیرِہ عرب میں بندرگاہ کی تعمیر اور انتظام کے لیے امریکی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق اس منصوبے کے تحت امریکی سرمایہ کار پسنی کے شہر میں پاکستان کے اہم معدنیات تک رسائی کے لیے ایک ٹرمینل تعمیر اور چلا سکیں گے۔ پسنی بلوچستان کے ضلع گوادر میں واقع ایک بندرگاہی شہر ہے جو افغانستان اور ایران کی سرحد سے متصل ہے۔

یہ اقدام اس ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جو وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے ستمبر میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کی تھی، جس میں شہباز شریف نے امریکی کمپنیوں سے زرعی، ٹیکنالوجی، کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی درخواست کی تھی۔

ایف ٹی کے مطابق یہ پیشکش کچھ امریکی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی تھی اور اسے پچھلے ماہ کے آخر میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے پہلے عاصم منیر کے علم میں لایا گیا۔

اس منصوبے میں بندرگاہ کو امریکی فوجی اڈوں کے لیے استعمال کرنے کا کوئی تصور شامل نہیں، بلکہ مقصد ترقیاتی سرمایہ کاری حاصل کرنا اور بندرگاہ کو معدنی وسائل سے مالا مال مغربی صوبوں سے جوڑنے کے لیے ریلوے نیٹ ورک کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

رائٹرز نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔ امریکی محکمۂ خارجہ، وائٹ ہاؤس اور پاکستان کے وزارتِ خارجہ نے تبصرے کے لیے فوری جواب نہیں دیا جبکہ پاکستانی فوج سے فوری رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔