حکومت کے شوگر درآمدات کو 0.3 ملین میٹرک ٹن تک محدود کرنے کے فیصلے پر پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے شدید ردِعمل دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف کسانوں بلکہ ملکی شوگر انڈسٹری کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔
پی ایس ایم اے کے ترجمان نے کہا کہ انڈسٹری بارہا حکومت کو آگاہ کرچکی ہے کہ ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں، اس لیے درآمد کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق 18 نومبر 2025 تک مقامی ذخائر ضرورت سے کہیں زیادہ تھے، اس کے باوجود حکومت درآمدات کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جب ملک میں پہلے ہی وافر ذخائر دستیاب ہیں تو ایسی درآمدات کسانوں کو بری طرح متاثر کریں گی اور انڈسٹری کو مزید مالی بحران میں دھکیل دیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ کھیتوں میں اب بھی سیلابی پانی کھڑا ہے جس کے باعث گنے کی کٹائی ممکن نہیں ہوپارہی۔ جب تک پانی نہیں اترتا کٹائی ممکن نہیں اور حکومت کو اس سنگین صورتحال کا احساس کرنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025