پاکستان اور تاجکستان نے علاقائی ٹرانسپورٹ کاریڈورز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کے اے ایس اے 1000 منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ اتفاق رائے دوشنبے میں 29 تا 30 ستمبر 2025 کو ہونے والی چھٹی دوطرفہ سیاسی مشاورت (بی پی سی) کے دوران ہوا۔

کے اے ایس اے 1000 وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک بجلی کی ترسیل کا ایک 1.16 بلین ڈالر کا منصوبہ ہے، جو کرغزستان اور تاجکستان سے افغانستان کے راستے پاکستان کو اضافی پن بجلی فراہم کرنے کے لیے زیر تعمیر ہے۔ اس منصوبے کا سنگ بنیاد 2016 میں رکھا گیا، جب کہ تکمیل کا ہدف 2025 مقرر کیا گیا تھا۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ سید علی اسد گیلانی جب کہ تاجک وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ فرخ شریف زادہ نے کی۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سلامتی، تعلیم و ثقافت سمیت مختلف شعبوں پر بات چیت ہوئی۔

دونوں ممالک نے ٹیکسٹائل، لاجسٹکس، زراعت اور دواسازی میں تعاون بڑھانے پر زور دیا، جبکہ انسداد دہشتگردی اور دفاعی تربیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے کشمیر سمیت علاقائی و عالمی امور پر سفارتی حل اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی اہمیت پر زور دیا۔ مشاورت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور آئندہ اجلاس 2026 میں اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔