پاکستان نے امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ مسلم ممالک کے تیار کردہ اصل مسودے سے مختلف ہے۔ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکات میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جو ہمارے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے پیر کے روز وہ منصوبہ جاری کیا جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور جنگ بندی کے 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں خواہ زندہ ہوں یا شہید کی واپسی کو یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں کئی اہم تفصیلات کو آئندہ مذاکرات پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار حماس کی منظوری پر ہے، جس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔ منصوبے میں مستقبل کے غزہ کو نیو غزہ یعنی نیا غزہ کا نام دیا گیا ہے۔