پرانی گاڑیوں کی تجارتی درآمد: مقامی آٹو صنعت شدید خطرے میں
رواں ہفتے وزارتِ تجارت نے ایس آر او جاری کرتے ہوئے پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دی اور اس پر فوری طور پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی گئی۔ صنعتکار، ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقامی آٹو صنعت کے لیے سنگین خطرہ ہے جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین شہریار قادر نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ مقامی صنعت اس اقدام کی وجہ سے اپنی بقاء کے لیے جدوجہد کرے گی۔
موجودہ وقت میں مقامی مینوفیکچررز اور اسمبلرز کی سالانہ پیداواری صلاحیت 500,000 یونٹس ہے، مگر وہ صرف 150,000 یونٹس تیار کر رہے ہیں، یعنی پوری صنعت کی 30 فیصد پیداواری صلاحیت استعمال ہورہی ہے۔ مقامی پرزہ جات بنانے والوں کی صورتحال بھی اسی طرح ہے۔
شہریار قادر نے خبردار کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد سے مقامی آٹوموبائل صنعت مکمل بند ہونے کے خطرے میں آ جائے گی۔
مالی سال 2021 میں مقامی پیداوار عروج پر تھی، جب 303,000 یونٹس تیار کیے گئے جبکہ درآمدات صرف 27,000 یونٹس تھیں، جو مارکیٹ کا 9 فیصد بنتا تھا۔ گزشتہ سال یہ شرح بڑھ کر تقریباً 24 فیصد ہوگئی، جس سے مقامی پیداوار متاثر ہوئی۔
اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟
شہریار قادر نے کہا کہ درآمد شدہ گاڑیوں کی مانگ مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی مانگ کو متاثر کرتی ہے۔ پچھلے مالی سال استعمال شدہ گاڑیوں نے تقریباً 25 فیصد مارکیٹ پر قبضہ کیا جس میں 41 ہزار سے زائد یونٹس کی درآمد شامل تھی۔ یہ ایک سال میں مقامی پرزہ جات بنانے والی صنعت کو براہِ راست 60 ارب روپے سے زائد کا نقصان اور 40,000 ممکنہ ملازمتوں کا نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی تجارتی درآمدات کو باقاعدہ بنایا جاتا ہے، یہ اعداد و شمار مزید بڑھنے کے امکان رکھتے ہیں۔ ہر درآمد شدہ یونٹ ایک مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑی کی جگہ لیتا ہے اور اس کے ساتھ وہ سینکڑوں پارٹس کی مانگ بھی کم ہوجاتی ہے جو 1.83 ملین ملازمتوں کو زندہ رکھتی ہیں۔ زیادہ درآمدی حصہ پلانٹس کو کم استعمال شدہ اور وینڈرز کو مشکلات میں رکھے گا۔
شہریار قادر نے کہا کہ مقامی آٹو انڈسٹری کو منظم انداز میں ختم کرنے سے ملازمتوں، درآمدات، ماحولیاتی، مالیاتی اور مسابقتی شعبوں میں ناقابلِ واپسی جھٹکے آئیں گے جنہیں کوئی بھی نازک معیشت برداشت نہیں کرسکتی اور اس کے لیے کوئی قابلِ اعتماد متبادل منصوبہ موجود نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کی اقتصادی ترقی اور عالمی انضمام کے لیے پرعزم ہیں، ہم ان اصلاحات کے خلاف نہیں جو کارکردگی بڑھائیں لیکن ہم اس بات پر گہری تشویش رکھتے ہیں کہ ایسی پالیسیاں جو غیر ارادی طور پر مقامی آٹو بنیاد کو کمزور کریں اور روزگار کو خطرے میں ڈالیں، نقصان دہ ہوں گی۔
پاپام کی سفارشات
پاپام کی جانب سے انہوں نے درج ذیل تجاویز پیش کیں:
• نیو انرجی وہیکل (این ای وی) کی لوکلائزیشن اور ماحولیاتی اہداف کو کمزور کرنے کے بجائے اس کی حمایت کیسے کی جائے گی اور یہ استعمال شدہ گاڑیوں کی لبرلائزیشن کے ساتھ کیسے ہم آہنگ ہو گی، اس بارے میں پالیسی سازوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے واضح شعبے کیلئے مخصوص رہنمائی۔
• روزگار کے تحفظ، دوبارہ تربیت کی حمایت اور ملکی مینوفیکچرنگ اور تکنیکی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹھوس پالیسی اقدامات۔
• درآمدات سے متعلق ٹیکس، ریگولیٹری اور مالیاتی شفافیت کے فرق کو ختم کرنے کیلئے حکمت عملی، جس میں غیر قانونی درآمدی چینلز کے خلاف نفاذ بھی شامل ہے۔
• قابل موازنہ معیشتوں سے شفاف، شواہد پر مبنی مثالیں جو تجارتی لبرلائزیشن اور پائیدار صنعتی ترقی کے کامیاب امتزاج کو واضح کریں۔
• ایک واضح منصوبہ جس میں مرحلہ وار نفاذ، خطرے کے کنٹرول اور کارکردگی کے پیمانے شامل ہوں تاکہ پاکستان کے آٹوموٹو نظام کو تحفظ فراہم کیا جاسکے اور مؤثریت میں بہتری حاصل کی جاسکے۔
صنعت کی مقامی سازی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہریار قادِر نے کہا کہ پاکستان میں مکمل آٹوموٹو پارٹس کی مینوفیکچرنگ کا ایک جامع نظام موجود ہے جو ایک گاڑی کے 40 فیصد سے 60 فیصد حصے مقامی طور پر تیار کرتا ہے جس میں اہم اسمبلیز جیسے انجن اور ٹرانسمیشن شامل ہیں۔
یہ صنعت صرف اسمبلی پلانٹس ہونے کے برعکس، ٹولنگ، ٹیکنالوجی، اور کوالٹی سسٹمز میں کئی دہائیوں کی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتی ہے جو عالمی معیار (ISO-تصدیق شدہ، اقوام متحدہ کے ضوابط کے مطابق) پر پورا اترتے ہیں، اور یہ پاکستان کی آٹوموٹیو ویلیو چین کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
نئے سرمایہ کار جن میں سے زیادہ تر نے آٹوموبائل ڈویلپمنٹ پالیسی (اے ڈی پی) 2016-21 کے ذریعے مارکیٹ میں قدم رکھا کو لوکلائزیشن کی کوئی ترغیب نہیں تھی کیونکہ حکومت کی طرف سے انہیں بڑے مراعات دیے گئے تھے، جس میں پہلے سے ہی مقامی طور پر تیار شدہ پرزوں پر 50 فیصد ڈیوٹی چھوٹ شامل تھی۔
لوکلائزیشن کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس پالیسی نے درآمدات پر زیادہ انحصار والی اسمبلی کو فائدہ پہنچایا اور ان موجودہ وینڈرز کے مارکیٹ شیئر کو کم کردیا جو پہلے ہی مقامی ٹولنگ میں سرمایہ کاری کر چکے تھے۔
جہاں تک مقامی طور پر تیار شدہ/اسمبل شدہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تعلق ہے، آٹو ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قلیل مدتی قیمت میں ریلیف ایک بھاری قیمت پر آتا ہے جو کہ زرمبادلہ کا اخراج ، مقامی ملازمتوں کا نقصان، ٹیکس ریونیو کی کمزوری اور صنعتی ترقی کا رک جانا ہے۔ یہ فائدہ عارضی ہوتا ہے جبکہ نقصان دیرپا ہوتا ہے۔
مقامی گاڑیوں کی حقیقی قیمت
مہنگی مقامی گاڑیوں کا تاثر بنیادی طور پر پیداوار کی لاگت سے نہیں بلکہ ٹیکسیشن سے پیدا ہوتا ہے۔
کسٹم ڈیوٹی کے علاوہ حکومت کے دیگر محصولات، جن میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جی ایس ٹی، ودہولڈنگ ٹیکس اور رجسٹریشن فیس شامل ہیں، مجموعی طور پر پاکستان میں گاڑیوں کی ریٹیل قیمت کا 35 فیصد تا 58 فیصد بنتے ہیں۔
جب یہ ٹیکسز نکال دیے جائیں تو مقامی اسمبل شدہ ماڈلز مقابلتی ثابت ہوتے ہیں اور اکثر علاقائی ہم منصبوں سے سستے بھی ہوتے ہیں کیونکہ اعلیٰ سطح کی لوکلائزیشن کے باوجود کسٹم ڈیوٹی کی حفاظتی تدابیر موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ دیگر ٹیکسز کو کم یا ختم کیا جائے تاکہ صارفین کی طلب میں اضافہ ہو، جس سے صنعت کی پیداوار بڑھے گی اور معیشتی پیمانے کی بدولت اس کی مقابلتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
دوسری طرف کسٹم ڈیوٹی میں کمی اہم مسابقتی فائدہ ختم کردیتی ہے مگر دیگر ٹیکسز کی موجودگی کی وجہ سے یہ لازمی طور پر حتمی صارف پر بوجھ کم نہیں کرتی اور اس کے نتیجے میں کوئی خاطرخواہ اقتصادی فائدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ صنعتیں بند ہونے اور بے روزگاری بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں آٹو پالیسی ماڈل سال سے بھی تیز تبدیلیاں لیتی ہے۔ٹیرف، اہداف اور مراعات مسلسل بدلتے رہتے ہیں جبکہ وعدہ کیے گئے مقاصد اور سہولتیں کبھی عملی شکل اختیار نہیں کرتے جس سے صنعت اپنی پہلی رفتار میں پھنس جاتی ہے۔
نئی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانا
دریں اثنا آٹو موبائل کے ماہر شفیق احمد شیخ نے کہا کہ پرانی گاڑیاں درآمد کرنے سے نئی سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچے گا۔ چونکہ کئی نئے اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز) اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ملک میں آ رہے ہیں، اس لیے کسی بھی سال کی پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد روکنی چاہیے۔
شفیق احمد شیخ نے کہا کہ لوکلائزیشن ایک سرمایہ کاری ہے اور اس کا دارومدار پیداوار کے حجم پر ہے، لہٰذا اگر حجم کم ہوگا تو یقینی طور پر لوکلائزیشن بھی سست ہوگی۔ میری رائے میں یہ ایک اچھا اشارہ ہے کہ کم حجم کے باوجود، آٹو انڈسٹری میں مختلف اتار چڑھاؤ دیکھنے کے بعد بھی لوکلائزیشن برقرار ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کئی نئے کھلاڑیوں کی وجہ سے یہ بہتر ہوگی۔
میری رائے میں مقامی صنعت کی حمایت ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر صارفین کے لیے طویل مدتی پالیسیز تیار کرنی ہوں گی اور ساتھ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور لوکلائزیشن کے ساتھ سرمایہ کاری کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔