کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئی آر آئی آیس 2.0 پورٹل پر سسٹم کی خرابیوں اور بندشوں کا مکمل ریکارڈ فراہم کرے، کے ٹی بی اے نے ریکارڈ فراہمی کیلئے رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کا حوالہ دیا ہے۔
کے ٹی بی اے نے چیئرمین ایف بی آر کو لکھے گئے ایک خط میں ان متعدد خدشات کو اجاگر کیا ہے جو ٹیکس سال 2025 کے لیے ٹیکس دہندگان کی 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے ریٹرن فائل کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔
ٹیکس باڈی نے نشاندہی کی کہ ٹیکس سال 2025 کے لیے آمدنی کا حتمی گوشوارہ (فائل ریٹرن آف انکم) ایف بی آر کی جانب سے 18 اگست 2025 کو انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول 34 اے کے تحت مقرر کردہ ٹائم لائنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹیفائی کیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ اس مختصر مدت کے دوران ایف بی آر نے آئی آر آئی ایس پورٹل پر ریٹرن کے فارمیٹ میں بار بار تبدیلیاں کیں۔ خاص طور پر 24 ستمبر کو صرف چھ دن قبل اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے میں تخمینہ شدہ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے نام سے ایک نیا کالم شامل کیا گیا، جسے 26 ستمبر کو واپس بھی لے لیا گیا۔
کے ٹی بی اے نے الزام لگایا کہ یہ تبدیلیاں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 میں وضع کیے گئے لازمی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کی گئیں، جس سے ان کی قانونی درستگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ آئرس پورٹل کی مسلسل خرابیوں اور عدم استحکام کی وجہ سے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس کنسلٹنٹس کو ناقابل برداشت حالات کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ریٹرن فائل کرنے کی ناکام کوششوں میں ان کے ان گنت گھنٹے ضائع ہوئے۔