ترقی پسند کسان کہتے ہیں کہ ڈریگن فروٹ جو اپنی صحت بخش خصوصیات کی وجہ سے ایک غیر معمولی سپر فروٹ کے طور پر جانا جاتا ہے اور کئی ممالک میں مقبول ہے، نہ صرف مقامی سطح پر بہتر طریقے سے مارکیٹ کیا جانا چاہیے بلکہ برآمد بھی کیا جانا چاہیے۔

فی الحال پاکستان میں تقریباً 10 فارم ایسے ہیں جو تجارتی سطح پر ڈریگن فروٹ کی کاشت کررہے ہیں، حالانکہ یہ ابھی ترقیاتی مراحل میں ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے نہ صرف اس پھل کے صحت بخش فوائد بلکہ اس کی دیگر مصنوعات جیسے فروٹ پاؤڈر، جو مشروبات، جام اور آئس کریم بنانے میں استعمال ہوتا ہے کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔

ترقی پسند کسان اور ڈیلیشیس ڈریگن فروٹس فارمز کراچی کے مالک کیپٹن رضوان رحمان گڈاپ ٹاؤن کراچی میں اپنے فارم پر ڈریگن فروٹ کی کاشت کررہے ہیں۔

انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ڈریگن فروٹ کی کاشت کو حکومتی تعاون کے ذریعے فروغ دیا جاسکتا ہے، جیسے کہ چھوٹے کسانوں کو کنکریٹ کے ستون، اسٹیل وائر، رسی، سولر پلیٹس اور ڈرپ اریگیشن سسٹم کے آلات پر سبسڈی دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈریگن فروٹ پاکستان میں زیادہ مقبول نہیں کیونکہ یہ زیادہ ترسپر مارکیٹس میں دستیاب ہے جہاں اکثر مقامی کے بجائے درآمد شدہ پھل فروخت کیے جاتے ہیں۔ محدود رسد کی وجہ سے قیمتیں بھی زیادہ ہیں، یہ ایک امیر آدمی کا پھل بن چکا ہے، عام لوگوں کی پہنچ سے باہر۔ جیسے ہی سپلائی بڑھائی جائے گی اور یہ عام بازاروں میں دستیاب ہوگا، قیمتیں کم ہوجائیں گی۔

برآمدی صلاحیت

دنیا بھر میں ڈریگن فروٹ کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ اس کے اہم برآمد کنندگان ویتنام اور تھائی لینڈ ہیں، لیکن ان کے پاس زیادہ تر سفید گودے والی قسم ہوتی ہے، جس کی شیلف لائف زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں سرخ گودے والی قسم موجود ہے، جسے زیادہ میٹھا اور ذائقہ دار سمجھا جاتا ہے۔ رحمان نے کہا کہ اس کے علاوہ، یہ اینٹی آکسیڈینٹس اور وٹامن سی میں بھی زیادہ مالا مال ہے۔

دنیا بھر میں کئی اقسام دستیاب ہیں مگر برآمد کے معیار کے مطابق فی پھل وزن 300 گرام ہونا چاہیے۔

پاکستان میں زیادہ تر اگائی جانے والی اقسام چائنیز ریڈ ہیں جب کہ رضوان رحمان کے پاس سب سے زیادہ تجارتی اقسام موجود ہیں جن میں سیم ریڈ، رائل ریڈ، مراکشی ریڈ، ریڈ روبی، ڈارک اسٹار، تائیوان جمبو ریڈ، ویتنام ریڈ، چینی ریڈ، ویتنام وائٹ، آسّی گولڈ، اسرائیلی ییلو، ڈیزرٹ کنگ، سیم ریڈسی اور دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے محل وقوع سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے، کیونکہ یہ خلیجی ممالک کے قریب ہے۔

سرگودھا کے ترقی پسند کسان سہیل محمد خان کا کہنا ہے کہ اگر کسان بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کریں تو برآمدات سے اربوں ڈالر کمایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کے لیے حکومت کو کسانوں کو بین الاقوامی مارکیٹوں، جیسے امریکہ کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔

رضوان رحمان کے مطابق ڈریگن فروٹ کی کاشت نسبتاً آسان ہے اور اس کے لیے اچھی نکاسی والی زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ چند سو پودوں کی ابتدائی کاشت کے بعد ایک یا دو سال میں پیداوار ہزاروں پودوں تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

دو اہم نظام پھل کی بڑھوتری میں مددگار ہیں: رنگ پول اور ہائی ڈینسٹی ٹریلس سسٹمز

رنگ پول سسٹم کی لاگت ایک ایکڑ کے لیے تقریباً 2 ملین روپے جب کہ ہائی ڈینسٹی ٹریلس سسٹم میں کم از کم 3 ملین روپے خرچ ہوسکتے ہیں۔ پھل کو فی کلوگرام 1,000 روپے میں فروخت کیا جا سکتا ہے اور ایک ایکڑ سے پانچ سے دس ٹن تک پیداوار ممکن ہے۔