سیلاب کے باعث لاکھوں افراد کے ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصان نے ایک بار پھر پاکستان میں بڑھتی ہوئی اور بلند سطح کی غربت سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔

غربت کا طویل المدتی رجحان خوراک کی قیمتوں، فی کس آمدنی کی سطح اور بیروزگاری کے رجحانات پر منحصر ہوتا ہے۔

غربت کی لکیر اس لاگت کو قرار دیا جاتا ہے جو کسی فرد کو یومیہ 2,350 کیلوریز کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ خوراک کے علاوہ دیگر بنیادی ضروریات، جیسے رہائش اور لباس، کی لاگت کو اس میں شامل کر کے غربت کی لکیر کا تعین کیا جاتا ہے۔

لہٰذا جتنی زیادہ غربت کی لکیر ہوگی، ملک میں غربت کی شرح بھی اتنی ہی زیادہ ہونے کا امکان ہوگا۔ منصوبہ بندی کمیشن نے 2018-19 میں فی بالغ فرد ماہانہ غربت کی لکیر 3,757 روپے مقرر کی تھی، جسے تاحال اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔

اسی طرح عالمی بینک نے 2017 کی خریداری کی طاقت کے مساوی شرح (پی پی پی) کے مطابق فی کس یومیہ 3.60 امریکی ڈالر غربت کی لکیر مقرر کی تھی، جو منصوبہ بندی کمیشن کی مقرر کردہ لکیر سے قریب تر تھی۔ تاہم حالیہ عرصے میں اسے بڑھا کر 2021 کی پی پی پی کے مطابق 4.20 امریکی ڈالر فی کس یومیہ کر دیا گیا۔ اس بلند تر غربت کی لکیر کے مطابق 2018 میں پاکستان میں غربت کی شرح 45 فیصد تک تھی۔

واضح طور پر غربت کی لکیر خوراک کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نہایت حساس ہے، خصوصاً عمومی قیمتوں کی سطح کے مقابلے میں۔ اندازہ ہے کہ اگر خوراک کی مہنگائی کی شرح صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی عمومی مہنگائی سے 1 فیصد زیادہ ہو تو اس سے غربت کی شرح میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

2024-25 کے لیے پاکستان میں غربت کی لکیر کا تخمینہ فی بالغ فرد 8,513 روپے ماہانہ لگایا گیا ہے۔ غذائی ضروریات کے لحاظ سے بالغ مرد کا تناسب 1.07، بالغ خاتون کا 0.86 اور ایک بچے کا 0.67 تصور کیا جاتا ہے۔ اس حساب سے ایک خاندان، جس میں ایک بالغ مرد، ایک بالغ خاتون اور چار بچے شامل ہوں، کی ماہانہ غربت کی لکیر تقریباً 39,200 روپے بنتی ہے۔ یہی وہ کم از کم آمدنی ہے جو کسی خاندان کو غربت کی سطح سے نکالنے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان میں کم از کم ماہانہ اجرت 37,000 روپے مقرر ہے، جو چھ افراد پر مشتمل ایک خاندان کی غربت کی لکیر، یعنی تقریباً 39,200 روپے، سے بھی کم ہے۔ مزید یہ کہ اندازہ ہے کہ 40 فیصد سے زائد کارکنوں کو یہ کم از کم اجرت بھی میسر نہیں آتی۔ اس پر مستزاد 2023 کی مردم شماری و رہائشی اعدادوشمار کے مطابق بیروزگاری کی حالیہ شرح نہایت بلند، یعنی 22 فیصد سے زائد ہے۔

پاکستان میں غربت کے پھیلاؤ کا طویل المدتی رجحان کیا رہا ہے؟ غربت کا تخمینہ گھریلو آمدنی کی تقسیم سے جڑا ہوتا ہے، جسے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے وقتاً فوقتاً کیے جانے والے ”ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے“ (ایچ آئی ای ایس) کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ آخری سروے 2018-19 میں کیا گیا تھا۔

زیادہ حالیہ اندازے، پاکستان میں غربت کی شرح، حقیقی فی کس آمدنی، بیروزگاری کی شرح اور خوراک کی قیمتوں کے تقابلی رجحانات کے باہم ربط کا مقداری تجزیہ کر کے حاصل کیے گئے ہیں۔ 2021-22 کے مطابق، پاکستان میں غربت کی شرح 36.2 فیصد تھی۔

2022-23 کے تباہ کن سیلابوں کے باعث خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو عمومی قیمتوں کے اشاریے سے کہیں زیادہ تھا۔ اس سال خوراک کی قیمتوں میں 39 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عمومی مہنگائی کی شرح 29 فیصد تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ، حقیقی فی کس آمدنی میں بھی 2 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی۔ نتیجتاً، غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 2021-22 کے 36.2 فیصد سے بڑھ کر 2022-23 میں 43.4 فیصد تک جا پہنچی۔

خوش قسمتی سے 2023-24 اور 2024-25 میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں خاصی کمی آئی۔ اس عرصے میں خوراک کی قیمتوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ عمومی صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیز، حقیقی فی کس آمدنی میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ ان عوامل کے باعث 2024-25 کے اختتام تک غربت کی شرح میں کمی واقع ہوئی، جو 39.1 فیصد تک آ گئی۔

بدقسمتی سے، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر شدید سیلابی صورتحال نے تباہی مچائی ہے۔ فصلوں، مویشیوں، رہائش اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان 2022-23 کے سیلاب کی سطح کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی سے اضافے کا خدشہ ہے۔

تازہ ترین ہفتہ وار ”سینسیٹو پرائس انڈیکس“ (ایس پی آئی) کے مطابق، سال بہ سال بنیاد پر آٹے کی قیمت میں 18.6 فیصد، چینی میں 29.3 فیصد، ٹماٹر میں 90.1 فیصد اور دال مونگ میں 15.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مجموعی ایس پی آئی میں اضافہ صرف 5 فیصد رہا ہے۔ 2025-26 میں حقیقی فی کس آمدنی میں بھی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

لہٰذا ایک بار پھر غربت میں تیزی سے اضافے کا سنگین خدشہ موجود ہے۔ خوراک کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی ( سی پی آئی ) کے درمیان نمایاں فرق پیدا ہونے کا امکان ہے، جیسا کہ 2022-23 میں ہوا تھا۔ اگر یہ فرق 7.5 فیصد پوائنٹس تک پہنچا، تو 2025-26 میں غربت کی شرح میں 15 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ممکن ہے، جس سے یہ شرح 45 فیصد کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک محتاط اندازہ ہے۔ اگر خوراک کی قیمتوں میں سی پی آئی کے مقابلے میں اس سے زیادہ اضافہ ہوا، تو پاکستان میں غربت کی شرح 2025-26 کے اختتام تک 50 فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

ملک میں ’غربت کے خلا‘ ( پاورٹی گیپ) کے تخمینے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ یہ وہ مجموعی فرق ہے جو غریب افراد کی اصل آمدنی اور غربت کی لکیر کے مطابق مطلوبہ آمدنی کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ ماضی کے تخمینوں کے مطابق یہ خلا اوسطاً 15 فیصد رہا ہے، جو کہ فی خاندان ماہانہ تقریباً 5,880 روپے بنتا ہے۔ اس حساب سے 2025-26 میں ملک بھر میں مجموعی طور پر غربت کا خلا 1,270 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے توقع کی جا رہی ہے کہ 2025-26 میں غریب طبقات کو نقد رقوم کی منتقلی 727 ارب روپے تک پہنچ جائے گی، جو ملک میں غربت کے خلا کا تقریباً 57 فیصد احاطہ کرے گی۔ فی خاندان سہ ماہی رقم 13,500 روپے مقرر ہے اور یہ رقم 1 کروڑ مستحقین کو دی جا رہی ہے، جو موجودہ غریب آبادی کے تقریباً 55 فیصد کے برابر ہے۔

2025-26 میں سہ ماہی نقد امداد کو بڑھا کر 16,000 روپے کرنے اور مستحقین کی تعداد کو کم از کم 1 کروڑ 20 لاکھ تک بڑھانے کی ضرورت ہو گی۔ اس اضافے کے لیے بی آئی ایس پی کے بجٹ میں 228 ارب روپے کا مزید اضافہ درکار ہو گا۔

اس کے ساتھ ساتھ دیگر مالی امدادی اقدامات کی بھی ضرورت ہو گی۔ اس میں چھوٹے کسانوں کے قرضوں کی معافی یا ادائیگی موخر کرنے، رہائشی نقصانات اور مویشیوں کے ضیاع کی تلافی کے لیے خصوصی قرض سہولتیں شامل ہوں گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 2025-26 میں ملک میں غربت کا شکار مزید 2 کروڑ 50 لاکھ افراد کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کی فوری ضرورت ہو گی۔

2025-26 میں شدید سیلاب کے بعد پاکستان میں غربت کی شرح بدقسمتی سے بلند ترین سطح، یعنی 45 فیصد سے تجاوز، کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) کے نفاذ کے بعد غربت کے خاتمے کے لیے مضبوط اور ہمہ جہت اقدامات پر عملدرآمد ناگزیر ہوگا۔ خوراک کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہو گی، جس کے لیے ضرورت پڑنے پر زیادہ مقدار میں خوراک درآمد کر کے ذخائر کو بڑھانا ہو گا۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025