ڈالر کی نسبت روپیہ مزید تگڑا
انٹربینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 281.32 روپے پر جاپہنچا۔
یاد رہے کہ امریکی ڈالر کے مقابلے مقامی کرنسی پیر کو 281.35 پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر محتاط کاروبار کے دوران دباؤ کا شکار رہا کیونکہ سرمایہ کار ممکنہ امریکی حکومتی شٹ ڈاؤن کے خدشے کے پیشِ نظر محتاط دکھائی دیے۔ یہ شٹ ڈاؤن اقتصادی اعداد و شمار، بشمول اس ہفتے جاری ہونے والی اہم روزگار رپورٹ، کی اشاعت روک سکتا ہے۔
منگل کی نصف شب کے بعد حکومت کی فنڈنگ ختم ہو جائے گی اگر ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس آخری لمحات میں عارضی اخراجاتی معاہدے پر متفق نہ ہوئے۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مخالفین کسی خاص پیش رفت تک نہیں پہنچ سکے۔
روزگار سے متعلق رپورٹ جو فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کے فیصلوں کے لیے نہایت اہم ہے جمعہ کو جاری ہونی ہے اور اس میں تاخیر کی صورت میں مرکزی بینک لیبر مارکیٹ کے حوالے سے اندھیرے میں رہ سکتا ہے۔
فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک کے صدر جان ولیمز نے پیر کو کہا کہ لیبر مارکیٹ میں کمزوری کی ابھرتی ہوئی علامات ہی وہ وجہ تھیں جنہوں نے حالیہ مرکزی بینک اجلاس میں شرح سود میں کمی کی حمایت پر انہیں آمادہ کیا۔
ٹریڈرز اس وقت دسمبر تک فیڈ کی جانب سے 42 بیسس پوائنٹس کی نرمی اور 2026 کے اختتام تک مجموعی طور پر 104 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی توقع کررہے ہیں جو ستمبر کے وسط میں سامنے آنے والی سطح سے تقریباً 25 بیسس پوائنٹس کم ہے۔
یہ صورتحال قریبی مدت میں ڈالر کو کمزور پوزیشن میں لاسکتی ہے جبکہ امریکی کرنسی کا وسیع تر انڈیکس جو اس سال 9.7 فیصد گرچکا ہے، ایشیائی کاروبار کے ابتدائی اوقات میں معمولی کمی کے ساتھ 97.948 پر آگیا۔