کاروبار اور معیشت

پورٹ قاسم عالمی بینک کی کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس میں 9ویں نمبر پر

  • پورٹ قاسم کی عالمی پذیرائی قومی اعزاز ہے، وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری
شائع September 27, 2025 اپ ڈیٹ September 27, 2025 03:58pm

کراچی کے پورٹ قاسم نے عالمی بینک کے کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس (سی پی پی آئی) 2020 سے 2024 میں 9 واں نمبر حاصل کیا ہے۔ یہ اعلیٰ درجہ بندی 2020 سے 2024 کے دوران بہتر سی پی پی آئی کی کارکردگی کی وجہ سے دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ورلڈ بینک کی جانب سے پورٹ قاسم کو دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے بندرگاہوں میں شامل کرنے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی حکومت کی مسلسل اصلاحات اور جدیدیت کے عمل کا ثمر ہے۔

ورلڈ بینک نے ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے اشتراک سے جاری کردہ تازہ ترین کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس (سی پی پی آئی) 2024 میں پورٹ قاسم کو دنیا کی ٹاپ 20 ترقی پذیر بندرگاہوں میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان پورٹ قاسم کی کارکردگی میں 35.2 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جنید انوار چوہدری نے ہفتہ کو اپنے بیان میں کہا کہ محمد بن قاسم پورٹ کا دنیا کی بہترین ترقی کرنے والی بندرگاہوں میں شامل ہونا قومی فخر کا باعث ہے۔ یہ ہماری مسلسل جدوجہد، جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات اور عالمی معیار کی بہترین پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ پاکستان کے بحری شعبے کو نہ صرف ملکی بلکہ علاقائی تجارت کے لیے بھی ایک مؤثر اور مسابقتی مرکز بنایا جائے۔

وفاقی وزیر نے جاری پالیسی اقدامات، ریگولیٹری اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو اس کامیابی کا بنیادی عنصر قرار دیا۔

انہوں نے خاص طور پر نجی آپریٹرز کے کردار کو سراہا، بالخصوص ڈی پی ورلڈ کے قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے پورٹ قاسم کے آپریشنز کو عالمی معیار کے مطابق یقینی بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت بحری امور نے پورٹ چینل کی ڈریجنگ کے ایک دیرینہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس سے بڑے جہازوں کی آمد و رفت ممکن ہوگی اور تجارتی گنجائش میں اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ عالمی اعتراف اس وقت آیا ہے جب پاکستان خود کو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، چین اور دیگر خطوں کو جوڑنے والے اسٹریٹجک لاجسٹکس کوریڈور کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ اور گوادر پورٹ کی جدید کاری کے ساتھ، پورٹ قاسم کی ترقی پاکستان کو ایک علاقائی شپنگ حب کے طور پر مستحکم کرے گی۔بندرگاہوں کی بہتر کارکردگی نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گی بلکہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو زیادہ قابل اعتماد اور کم لاگت شپنگ آپشنز فراہم کرے گی۔

جنید انوار چوہدری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ ہدف بندرگاہوں کو اندرونِ ملک ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس سے مربوط کرنا، ڈیجیٹل نظام کو مزید وسعت دینا اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے آخر میں کہا کہ یہ کامیابی ایک آغاز ہے، ہمارا مقصد پاکستان کی سمندری گذرگاہوں کو معاشی ترقی، علاقائی انضمام اور خوشحالی کے محرکات میں تبدیل کرنا ہے۔