اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 62 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو زبردست خریداری کا رجحان رہا جس کی وجہ وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اجلاس سے پیدا ہونے والی امیدیں تھیں۔ کاروبار کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 60 ، ایک لاکھ 61 اور پھر ایک لاکھ 62 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا۔
کاروبار کے دوران دن بھر مثبت رجحان برقرار رہا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 162,422.28 پوائنٹس کی بلند سطح پرجاپہنچا تھا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,976.91 پوائنٹس یا 1.87 فیصد اضافے سے پہلی بار 162,257 پوائنٹس کی بلند سطح پر بند ہوا۔
سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، اوایم سیز، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز میں بھرپور خریداری دیکھی گئی۔ ماری، حبکو، اے آر ایل، اوجی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل اور پی ایس او بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
ماہرین نے اس مثبت رجحان کی وجہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری قرار دی ہے۔
پاک-کویت انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جاری معاشی بحالی اور پاکستان کی بہتر جغرافیائی سیاسی حیثیت کی وجہ سے بہتر امکانات اس تیزی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اہم پیش رفت میں وزیراعظم شہبازشریف نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، ان کے ساتھ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ٹرمپ کی غزہ میں جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی، خاص طور پر اس اقدام کی جس میں ٹرمپ نے اس ہفتے کے آغاز میں نیویارک میں مسلم دنیا کے اہم رہنماؤں کو مدعو کیا تاکہ مشرق وسطیٰ، بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں امن کے قیام کے لیے جامع تبادلۂ خیال کیا جاسکے۔
جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان جاری رہا کیونکہ سرکاری اقدامات کے حوالے سے مثبت توقعات جو تباہ کن سرکولر قرضے کے حل کے لیے ہیں نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو نئے ریکارڈ سطح پر پہنچادیا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 1,043.42 پوائنٹس یا 0.66 فیصد اضافے سے 159,280.09 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔
عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی مارکیٹ میں شیئرز گرگئے جہاں دواسازی کی کمپنیوں کو خاص طور پر نقصان پہنچا، اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی سخت محصولات کا اعلان کیا اور سرمایہ کاروں نے توقع سے بہتر اقتصادی اعداد و شمار کے بعد امریکی شرح سود میں بڑی کمی کے امکانات کو کم کیا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ درآمد شدہ برانڈڈ ادویات پر 100 فیصد محصولات، ہیوی ڈیوٹی ٹرکس پر 25 فیصد محصولات اور کچن کیبنٹس پر 50 فیصد محصولات عائد کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ باتھ روم وینیٹیز پر 50 فیصد اور نرم فرنیچر پر 30 فیصد محصولات عائد کریں گے اور یہ تمام نئے محصولات یکم اکتوبر سے نافذ ہوں گے۔
اس اعلان کے بعد ایشیا میں دواسازی کی کمپنیوں کے شیئرز میں شدید کمی دیکھی گئی، جاپان کے ٹاپکس دواسازی انڈیکس میں 1 فیصد کمی آئی، جبکہ ہانگ کانگ میں لسٹ شدہ انوویٹو ڈرگ انڈیکس 2.8 فیصد گر گیا۔