یہ جنگی خطاب نہیں تھا۔ صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ تھی۔ اور اس سے پہلے کہ کوئی یہ جانچ سکے کہ یہ الفاظ سوچ سمجھ کر کہے گئے تھے یا محض ایک اور ڈیجیٹل جھٹکا تھے، بازار حرکت میں آ چکے تھے۔

سیول سے اسٹاک ہوم تک دفاعی حصص چمک اٹھے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی کہ نیٹو کو چاہیے کہ روسی طیارے اگر اتحادی فضائی حدود کی خلاف ورزی کریں تو انہیں مار گرائے۔ چند گھنٹوں بعد ہی انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنا سارا علاقہ واپس حاصل کر سکتا ہے، یہ ایک اچانک مگر واضح تبدیلی تھی۔ اتنا کافی تھا کہ عسکری و صنعتی شعبے کی حصص میں آگ بھڑک اٹھے۔

ردعمل فوری تھا۔ یورپی دفاعی کمپنیوں کے حصص میں 2 سے 5.8 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ سویڈن کی SAAB AB میں 5.8 فیصد، جنوبی کوریا کی Hanwha Aerospace میں 5.9 فیصد، جاپان کی IHI میں لگ بھگ 10 فیصد، اور آسٹریلیا کی DroneShield میں 7 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ یہ اتفاقی اتار چڑھاؤ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک مربوط اور بامقصد غیر معمولی اضافہ تھا جو وقتی اچھال کے بجائے قیمتوں کے نئے تعین کا پتا دے رہا تھا۔

اور کیوں نہ ہوتا؟ ٹرمپ نے صرف تنازع کی بات نہیں کی، بلکہ تسلسل کی بات کی، اخراجات کے تسلسل کی، کشیدگی کے تسلسل کی، اور خلل کے تسلسل کی۔ یہ تمام عوامل ہر اُس ماڈل کا حصہ ہیں جو اتار چڑھاؤ پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اسے نفع بخش بنانے والے ساز و سامان کو تقویت دیتے ہیں۔

یقیناً یہ واضح نہیں کہ یہ نیا موقف قائم رہے گا یا نہیں۔ ممکن ہے اختتامِ ہفتہ تک بدل جائے۔ مگر مارکیٹ کے لیے یہ اہم نہیں۔ ٹرمپ کے بیانات کسی مستقل پالیسی پر مبنی نہیں بلکہ ہر بیان کے بعد قیمتوں کی نئی تشریح پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس بار، نئی قیمتوں نے دفاعی شعبے کو فائدہ پہنچایا۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ اس شعبے میں پہلا ابھار نہیں۔ ایم ایس سی آئی ورلڈ ایرو اسپیس اینڈ ڈیفنس انڈیکس پہلے ہی اس سال 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جو عمومی حصص سے کہیں آگے ہے۔ فرق صرف بیانیے کا ہے۔ پہلے دفاعی حصص فراہمی کے نظام کی توسیع اور خریداری کے شیڈول پر بڑھتے تھے۔ اس ہفتے، صرف پیغام رسانی پر بڑھ گئے۔ یہ رجحان ایک طرف تو تجارت کو آسان بناتا ہے، مگر دوسری طرف اعتماد کو مشکل۔

یورپ کے پاس مگر کوئی چارہ نہیں۔ ٹرمپ چاہے مؤقف پر قائم رہیں یا نہ رہیں، براعظم کو اپنا راستہ بدلنا پڑ رہا ہے۔ جب واشنگٹن کی ضمانتیں غیر یقینی ہوں، تو یورپی حکومتیں دفاع میں خود کفالت کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے زیادہ اخراجات، اور اسلحے کے نظاموں کے لیے طویل المدتی آرڈرز۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قربانیاں دینا ہوں گی۔

مالی دباؤ پہلے ہی شدید ہیں۔ یورپی فلاحی ریاستیں عمر رسیدہ آبادی، سست معیشت، اور کووڈ کے بعد قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہیں۔ فوجی بجٹ میں اضافے کے لیے کہیں اور سے کٹوتیاں کرنا ہوں گی، غالباً سماجی منصوبوں اور ترقیاتی اخراجات میں۔ ’ہتھیار یا خوراک‘ کا پرانا سوال ایک بار پھر حقیقت بن رہا ہے، اور اس بار ہتھیار جیت رہے ہیں۔

یہ کوئی انتخابی وعدہ نہیں تھا۔ بس ایک عام سا اشارہ تھا، ایک عوامی پلیٹ فارم پر دیا گیا، جسے بازار نے فوری طور پر بڑھا چڑھا کر ردعمل دیا۔ یہی ہے اس لمحے کی عجیب کیمیا: پالیسی اب غور و فکر سے نہیں، بلکہ اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر تشکیل پا رہی ہے۔

ادارہ جاتی سطح پر یہ موقف حالات کو پیچیدہ بناتا ہے۔ ٹرمپ کافی عرصے سے اصرار کرتے آئے ہیں کہ یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے، لیکن وہ اس معاملے پر اب تک اتنے مبہم رہے کہ نیٹو کی حکمت عملی غیر واضح رہی۔ اس ہفتے کے بیانات، خاص طور پر روسی طیاروں کے خلاف کارروائی اور یوکرین کی زمین واگزاری سے متعلق، اس مبہم روش سے ہٹ کر ایک نئی طرز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی واقعی بدلے گی یا نہیں، یہ غیر واضح ہے۔ واضح صرف یہ ہے کہ بازار انتظار نہیں کر رہے۔

اس رجحان کے پیچھے ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے۔ یہ یقین پر مبنی سرمایہ کاری نہیں، بلکہ ایک حفاظتی تدبیر ہے، پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال اور ممکنہ جغرافیائی کشیدگی کے خلاف۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ سی ٹی ایز، عالمی میکرو فنڈز، اور اتار چڑھاؤ پر مرکوز ہیج فنڈز دفاعی شعبے کو اپنے پورٹ فولیو کا مرکز بنا رہے ہیں۔ جب شرح سود غیر واضح ہو اور معاشی اعداد و شمار کمزور ہوں، تو کیا دوبارہ مسلح ہونا نئے معاشی اشارے کے طور پر سامنے نہیں آتا؟

مگر اس تدبیر کے نتائج بھی ہیں۔ یورپی رہنما پہلے ہی مہنگائی اور سرکاری خدمات کے زوال پر عوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ بجٹ کا رخ ہسپتالوں کی مرمت سے ہتھیاروں کی خریداری کی طرف موڑنا نیٹو میں مضبوطی تو لا سکتا ہے، مگر سیاسی اعتبار سے مہنگا ثابت ہوگا۔ اہم دارالحکومتوں میں انتخابات قریب ہیں۔ اربوں یورو کے لڑاکا طیارے خریدنا اور ساتھ ہی عوام کو بتانا کہ صحت کی سہولتوں میں کمی آئے گی، یہ آسان بیانیہ نہیں ہوگا۔

یہ سب کچھ بازار کی توثیق کے بغیر ممکن نہ تھا۔ صرف حکومتیں نہیں، سرمایہ کار بھی ہتھیاروں کے سپلائرز سے مستقبل کی آمدنی خرید رہے ہیں، اس امید پر کہ یہ چکر جاری رہے گا۔ یہ غیر معمولی اضافہ صرف عکاسی نہیں، بلکہ اس منطق کی تقویت بھی ہے۔

تاہم یہ حکمت عملی غیر محفوظ بھی ہے۔ اگر ٹرمپ ایک بار پھر موقف بدل کر علیحدگی پسند بیانیہ اپنا لیتے ہیں، تو یہ ابھار ختم ہو سکتا ہے۔ اگر روس حکمت عملی ایسی اپناتا ہے جس سے خطرے کی شدت کم ہو، تو دفاعی شیئرز کی قدر میں کمی آ سکتی ہے۔ اور اگر یورپ میں مالیاتی قدامت پسند فوجی بجٹوں کے خلاف مزاحمت شروع کر دیں، تو آرڈر بک کی کہانی مدھم پڑ سکتی ہے۔

مگر اس بار بازاروں کو وضاحت درکار نہیں، انہیں صرف ایک محرک چاہیے۔ اور ٹرمپ، غیر متوازن، غیر متوقع، مگر کبھی غیر دلچسپ نہیں، وہ محرک مسلسل فراہم کر رہے ہیں۔ وہ دنیا کی سب سے زیادہ ”ٹریڈ“ کی جانے والی شخصیت ہیں، اور ان کا ہر لفظ ایک پوشیدہ مالی امکان کے ساتھ آتا ہے۔ یورپ اس راستے پر کب تک قائم رہ سکے گا، یہ بحث طلب ہے۔ مگر بحث طلب نہیں ہے تو بازار کا ردعمل۔ یہ ممکن ہے کہ بازار ٹرمپ کے الفاظ پر یقین نہ کرے، مگر پھر بھی اُن کے جذباتی لمحاتی بیانات کی بنیاد پر تجارت ضرور کرے گا۔ اور کیوں نہ کرے؟ آخرکار، فائدہ آسانی سے حاصل ہو رہا ہے۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025