انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی اور 0.01 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروباری روز کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 281.41 روپے پر بند ہوا، جو ڈالر کے مقابلے میں 2 پیسے کی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 281.43 روپے پر بند ہوئی تھی۔
عالمی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر مستحکم رہا، تاجروں نے پالیسی سازوں کے محتاط لہجے کے بعد فیڈ کی شرح سود میں کمی کے امکان پر غور کیا اور ایسے اعداد و شمار کا انتظار کیا جو ٹیرف کے اثرات کو واضح کرسکتے ہیں۔
تاجروں نے اس سال باقی دو پالیسی میٹنگز میں 43 بیسس پوائنٹس کی کمی کو مدنظر رکھا ہے، حالانکہ عہدیداروں کے بیانات جن میں فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول بھی شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زیادہ تر فیصلہ آنے والی مہنگائی اور مزدوری کے اعدادوشمار پر منحصر ہوگا۔
مستقبل میں شرح سود میں کمی کے حوالے سے غیر یقینی اور اتفاق رائے کی کمی کا مطلب ہے کہ تاجر اب آئندہ ماہ کٹوتی کو مکمل طور پر قیمت میں شامل نہیں کر رہے۔ فیڈ کی جانب سے گزشتہ ہفتے شرح سود میں کمی کے بعد سے، جیسا کہ توقع کی گئی تھی، امریکی ڈالر بتدریج مضبوط ہورہا ہے۔
یورو نے آخری بار 1.17425 ڈالر پر خریداری کی، اس سے پہلے یہ پچھلے سیشن میں 0.6 فیصد گر گیا تھا۔ برطانوی پاؤنڈ اسٹرلنگ بھی معمولی تبدیلی کے ساتھ 1.3451 ڈالر پر رہا، بدھ کو یہ بھی 0.6 فیصد کم ہوا تھا۔
ڈالر انڈیکس 97.813 پر رہا جو تین ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ یہ انڈیکس ماہ کے لیے معمولی فائدہ حاصل کرنے کے قریب ہے۔
تیل کی قیمتوں میں، جو کرنسی کی قدر میں برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، جمعرات کو ایشیائی تجارت کے دوران کمی واقع ہوئی۔ یہ کمی گزشتہ سیشن کی سات ہفتوں کی بلند ترین سطح سے واپسی کی صورت میں سامنے آئی، جب سرمایہ کاروں نے سردیوں میں سست طلب اور کرد سپلائی (عراق کے کرد علاقے سے تیل کی برآمدات) کی بحالی کے پیشِ نظر منافع سمیٹنا شروع کیا۔
برینٹ خام تیل کے سودے 19 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے ساتھ فی بیرل 69.12 ڈالر پر آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے سودے 22 سینٹ یا 0.3 فیصد کی کمی کے بعد فی بیرل 64.77 ڈالر پر آ گئے۔
دونوں بینچ مارکس نے بدھ کو 2.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا تھا اور یہ قیمتیں یکم اگست کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ اس اضافے کی وجہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع کمی اور یوکرین کے روسی توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث رسد میں ممکنہ خلل کے خدشات تھے۔