کاروبار اور معیشت

حکومت کا تاریخی اقدام، نئی ہاؤسنگ فنانس اسکیم میرا گھر میرا آشیانہ متعارف

حکومت نےنیا ہاؤسنگ فنانس منصوبہ میرا گھر، میرا آشیانہ شروع کردیا جس کا مقصد کم آمدنی والے شہریوں کیلئے رہائش کے حصول...
شائع اپ ڈیٹ

حکومتِ پاکستان نے کم آمدنی اور متوسط طبقے کیلئے گھر کے خواب کو حقیقت بنانے کی غرض سے نئی ہاؤسنگ فنانس اسکیم میرا گھر میرا آشیانہ نام سے اسکیم متعارف کرا دی ہے۔

اس اسکیم کے تحت پہلی بار گھر خریدنے والے شہری مکان، فلیٹ یا پلاٹ کی خریداری اور تعمیر کے لئے آسان شرائط پر قرض حاصل کرسکیں گے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر دستیاب اسکیم کی تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ ہاؤسنگ فنانس کو زیادہ قابل رسائی بنانے کے لیے مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ میکانزم فراہم کرتا ہے۔ اسکیم ان شہریوں کے لیے ہے جن کے پاس درست شناختی کارڈ ہو اور جن کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی یونٹ موجود نہ ہو۔

اس اسکیم کے تحت قرض لینے والے گھر یا فلیٹ کی خریداری، گھر کی تعمیر یا پہلے سے ملکیت والے پلاٹ پر تعمیر اور پلاٹ کی خریداری کے ساتھ گھر کی تعمیر کے لیے فنانسنگ حاصل کرسکتے ہیں۔ اہل ہاؤسنگ یونٹس میں پانچ مرلے تک کے گھر اور 1,360 مربع فٹ تک کے اپارٹمنٹس شامل ہیں۔

فنانسنگ تمام کمرشل بینکوں، اسلامی بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل) کے ذریعے دستیاب ہوگی۔

قرض کا اسٹرکچر دو درجوں میں تقسیم ہے:

ٹیئر 1: دو ملین روپے تک کے قرضے، صارف کیلئے مقررہ شرح سود 5 فیصد

ٹیئر 2: دو ملین روپے سے زائد اور 3 اعشاریہ پانچ ملین روپے تک کے قرضے، صارف کے لیے مقررہ شرح سود 8 فیصد

قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال ہے جس میں پہلے 10 سال کے لیے مارک اپ سبسڈی لاگو ہوگی۔ قرض لینے والے 10 فیصد ایکویٹی فراہم کریں گے جبکہ بینک 90 فیصد تک فنانسنگ فراہم کریں گے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق بینک قرضوں کی شرح سود 1 سالہ کائبور پلس 3 فیصد کے حساب سے طے کریں گے، کوئی پروسیسنگ چارج یا قبل از وقت ادائیگی کی پینلٹی نہیں ہوگی۔ خطرات کم کرنے کے لیے حکومت اسکیم کے تحت بقایا پورٹ فولیو پر 10 فیصد فرسٹ لاس کور فراہم کرے گی۔

اسٹیٹ بینک کے سرکلر میں شراکت دار مالیاتی اداروں (پی ایف آئیز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکیم کی مناسب تشہیر کے لیے اپنی برانچ نیٹ ورک اور دیگر ذرائع استعمال کریں، اپنے نظام کو اسکیم کے کامیاب نفاذ کے لیے تیار کریں، اور کسی بھی ممکنہ غلط استعمال سے بچیں۔

اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ بینکوں کو مارک اپ سبسڈی اور کریڈٹ لاس کوریج فراہم کرنے کا طریقہ کار الگ سے آگاہ کیا جائے گا۔

ماہرین معاشیات کےمطابق یہ اسکیم کم آمدنی والے طبقے کورہائشی سہولت فراہم کرنے اور ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کرے گی۔