پاکستان کا ٹیکس ایکسپینڈیچر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.1 فیصد کے برابر رہا، جو کہ عالمی اوسط 4.0 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔
ٹیکس ایکسپینڈیچر رپورٹ 2025 کے مطابق، جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان کے ٹیکس ایکسپینڈیچر کے تخمینے عالمی اوسط کے مقابلے میں کم ہیں۔ 15 سال کی مدت کے دوران پاکستان کا ٹیکس ایکسپینڈیچر جی ڈی پی کے 2.1 فیصد پر برقرار رہا، جو کہ عالمی اوسط 4.0 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔
او ای سی ڈی ممالک میں 2010 سے 2024 تک ٹیکس ایکسپینڈیچر جی ڈی پی کے 4.5 فیصد سے 5.4 فیصد کے درمیان رہا۔ اس 15 سالہ مدت میں اوسط ٹیکس ایکسپینڈیچر کی شرح 4.9 فیصد رہی۔
سال 2023-24 کے لیے پاکستان کا کل ٹیکس ایکسپینڈیچر تخمینہ 2,434.73 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو جی ڈی پی کے 2.32 فیصد اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کل ٹیکس وصولیوں کے 26.18 فیصد کے برابر ہے۔ مختلف ٹیکسز میں سب سے زیادہ ٹیکس ایکسپینڈیچر سیلز ٹیکس پر رہا جو 1,237.11 ارب روپے ہے، اس کے بعد کسٹمز ڈیوٹی 652.39 ارب روپے اور انکم ٹیکس 545.23 ارب روپے رہا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2023-24 میں کل ٹیکس ایکسپینڈیچر میں سیلز ٹیکس کا تناسب کم ہوا ہے، جبکہ انکم ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کا حصہ بڑھ گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025