عالمی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں غربت میں کمی کی مہم، جو ایک وقت میں نمایاں کامیابیاں سمیٹ رہی تھی، اب رک گئی ہے بلکہ اس کا رخ الٹ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں غربت کی شرح 7 فیصد بڑھ گئی ہے اور مالی سال 2023-24 میں یہ 25.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ رپورٹ منگل کو جاری کی گئی جس کا عنوان ہے: “Reclaiming Momentum Towards Prosperity: Pakistan’s Poverty, Equity, and Resilience Assessment”۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا وہ معاشی ماڈل، جس نے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا تھا، اب ناکافی ہو چکا ہے اور موجودہ حالات میں نہ تو یہ ماڈل معاشی ترقی کو پائیدار بنا سکتا ہے اور نہ ہی گھرانوں کو کوویڈ، سیلاب، مہنگائی اور معاشی بحران جیسے جھٹکوں سے بچا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2001 میں غربت کی شرح 64.3 فیصد سے کم کر کے 2018 میں 21.9 فیصد تک لے آیا تھا، جو ایک بڑی کامیابی تھی۔ تاہم 2015 کے بعد یہ رفتار سست پڑ گئی اور حالیہ بحرانوں نے غربت کو دوبارہ بڑھا دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2021-22 میں غربت کی شرح 18.3 فیصد، 2022-23 میں 24.8 فیصد اور 2023-24 میں 25.3 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لاکھوں گھرانے اب بھی ایسے ہیں جو کسی بھی جھٹکے سے دوبارہ غربت میں گر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی غربت کی لکیر کے مطابق، جو یومیہ فی کس آمدنی 4.20 ہے ڈالر، 2018 میں پاکستان کی 45 فیصد آبادی غریب شمار ہوتی تھی، جو ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکیہ اور مصر جیسے ہم مرتبہ ممالک سے کہیں زیادہ تھی۔
عالمی بینک نے تیز آبادی، روزگار کے محدود مواقع، کم پیداواری صلاحیت اور پبلک سروسز کی کمزوری کو غربت میں کمی نہ آنے کی بڑی وجوہات قرار دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کے باعث نشوونما نہ ہونے کا شکار ہیں، ہر چار میں سے ایک بچہ اسکول سے باہر ہے جبکہ پرائمری میں جانے والے 75 فیصد بچے ایک آسان کہانی پڑھنے کے قابل نہیں۔ دیہی غربت (28.2 فیصد) شہری غربت (10.9 فیصد) سے دگنی ہے، جبکہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں غربت کی شرح 42.7 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں بھی غربت کو بڑھا رہی ہیں۔ پاکستان دنیا کے 10 سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا شکار ممالک میں شامل ہے، حالانکہ اس کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ صرف 2022 کے سیلاب نے قومی پیداوار میں 2.2 فیصد کمی کی اور اس کا زیادہ نقصان غریب طبقے نے اٹھایا۔
عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آنگابازر نے کہا کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مشکل سے حاصل کردہ کامیابیوں کو محفوظ رکھے اور ایسے اصلاحات کرے جو نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو لوگوں میں سرمایہ کاری، جھٹکوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے، مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور پالیسی سازی کے لیے درست اعداد و شمار کے نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں صنعت کی ترقی رکی ہوئی ہے، زراعت کی پیداوار کمزور ہے اور خدمات کا شعبہ محدود شرح سے آگے بڑھ رہا ہے۔ لیبر مارکیٹ زیادہ تر غیر رسمی روزگار پر مبنی ہے، جہاں آمدنی کم اور غیر یقینی ہے۔ 2011 سے 2021 تک غریب طبقے سے منسلک شعبوں میں حقیقی اجرتوں میں صرف 2 سے 3 فیصد اضافہ ہوا، جس سے غربت میں کمی کی رفتار مزید رک گئی۔
عالمی بینک نے چار بڑے راستے تجویز کیے ہیں: سب سے پہلے انسانی وسائل اور بنیادی خدمات (تعلیم، صحت، پانی، رہائش) میں سرمایہ کاری؛ دوسرا، سماجی تحفظ کے نظام کو مزید جامع اور جھٹکوں کے مقابلے کے قابل بنانا؛ تیسرا، مالیاتی اصلاحات کے ذریعے وسائل کو بہتر طریقے سے مختص کرنا اور سبسڈی کے ضیاع کو ختم کرنا؛ اور چوتھا، مؤثر ڈیٹا سسٹمز قائم کرنا تاکہ پالیسیاں درست اعداد و شمار پر مبنی ہوں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025