ٹرمپ کی مسلم رہنماؤں سے ملاقات، شہباز شریف بھی شریک
- ملاقات میں غزہ کے بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جن میں وزیرِاعظم شہباز شریف بھی شامل تھے۔ اس ملاقات میں غزہ کے بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکا میں ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنما شامل تھے۔
ٹرمپ نے اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے بہترین کام کیا ہے جو قابلِ ستائش ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ نے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کے علاوہ اسرائیلی انخلا اور غزہ میں بعد از جنگ حکمرانی پر بھی گفتگو کی، جس میں حماس کو شامل نہ کرنے کا عندیہ دیا۔
ایکسيوس کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک اسرائیل کے انخلا کو ممکن بنانے کے لیے غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر آمادہ ہوں اور عبوری و تعمیرِ نو پروگراموں کے لیے فنڈز فراہم کریں۔
اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں پر عالمی سطح پر مذمت کا سامنا ہے، جہاں مقامی محکمہ صحت کے مطابق 65,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
شرکاء نے مؤقف اپنایا کہ دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، تاہم اسرائیل نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دراصل انتہاپسندی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں دسیوں ہزار فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں، غزہ کی پوری آبادی داخلی طور پر بے گھر ہو گئی ہے اور قحط کا شکار ہے۔ متعدد ماہرینِ حقوق، محققین اور اقوام متحدہ کی تحقیقات کے مطابق یہ کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات اپنا دفاع ہیں، کیونکہ اکتوبر 2023 میں حماس کے فلسطینی جنگجوؤں نے ایک حملے میں 1,200 افراد کو ہلاک کیا اور 250 سے زائد کو یرغمال بنایا تھا۔ غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل ایران، لبنان، یمن، شام اور قطر پر بھی بمباری کر چکا ہے۔
ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد غزہ کی جنگ کو جلد ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کے آٹھ ماہ کے دورِ حکومت میں بھی اس کا حل نکلنا باقی ہے۔
ان کے دورِ صدارت کا آغاز اسرائیل اور حماس کے درمیان دو ماہ کی جنگ بندی سے ہوا، جو 18 مارچ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد ختم ہوئی۔
حالیہ دنوں میں بھوکے فلسطینیوں، بالخصوص بچوں کی تصاویر نے اسرائیل کے حملوں پر دنیا بھر میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
فروری میں ٹرمپ نے غزہ پر امریکی کنٹرول اور فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی کی تجویز دی تھی۔ ماہرینِ حقوق اور اقوامِ متحدہ نے اس تجویز کو نسل کشی قرار دیا، کیونکہ جبری بے دخلی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اسے ترقی نو کا منصوبہ قرار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025