وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین حال ہی میں طے پانے والے اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (ایس ایم ڈی اے) کے تحت آئی ٹی شعبہ کلیدی عنصر ہوگا۔

کراچی میں آئی ٹی سی این ایشیا 2025 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ شزہ فاطمہ نے کہا کہ ”لندن سے ہمیں ایک نوٹ موصول ہوا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ نئے دستخط شدہ ایس ایم ڈی اے کے تحت آئی ٹی شعبہ سرمایہ کاری کے مواقع کا مرکزی حصہ ہوگا۔“

گزشتہ ہفتے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے ایس ایم ڈی اے پر دستخط کیے ہیں، جس میں واضح طور پر درج ہے: ”دونوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ، دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔“

اگرچہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جس سے سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، تیل و گیس، توانائی کے شعبوں میں تعاون اور آئی ٹی برآمدات کو فروغ دینے کے وسیع امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

پاکستان کے ڈیجیٹل سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے شزہ فاطمہ نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر نے سالانہ 20 فیصد ترقی کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو سال میں ملک میں انٹرنیٹ اور ڈیٹا کے استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فری لانسرز اور ریموٹ ورک کرنے والوں کی تعداد میں ایک سال کے دوران دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو خطے کا ڈیٹا ٹرانزٹ حب بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئی ٹی اور انٹرنیٹ سے متعلق مسائل کے حل کو ترجیح دے رہی ہے اور ملک بھر میں 5G کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت رواں سال کے آخر تک اسپیکٹرم کی نیلامی کا ارادہ رکھتی ہے۔ ”یہ نیلامی اسپیکٹرم کی دستیابی کو 274MHz سے بڑھا کر 1,000MHz تک لے جائے گی اور ملک میں 5G ٹیکنالوجی کا آغاز بھی کرے گی۔“

شزہ فاطمہ نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ 10 لاکھ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا اگست کے دوران آئی ٹی برآمدات 691 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے 584 ملین ڈالر کے مقابلے میں 107 ملین ڈالر کا سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔