وزیرِاعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے لندن سے نیویارک روانہ
- وزیرِاعظم اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر متعدد اعلیٰ سطح کی تقریبات میں شرکت کریں گے، جن میں سلامتی کونسل کے اجلاس، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) کی نشست اور ماحولیاتی اقدامات سے متعلق خصوصی سیشن شامل ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف پیر کے روز لندن سے نیویارک روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ( یو این جی اے) کے 80 ویں سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وزیرِاعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیرِاعظم کو لندن کے لوٹن ایئرپورٹ پر پاکستان کے ہائی کمشنر برائے برطانیہ ڈاکٹر محمد فیصل اور سفارتی عملے نے رخصت کیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس میں وہ عالمی اور علاقائی معاملات پر پاکستان کا موقف پیش کرنے کا امکان ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیرِاعظم شہباز شریف عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں جاری طویل قبضے اور حقِ خود ارادیت سے محرومی کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ وزیرِاعظم اپنے خطاب میں خاص طور پر غزہ کے بحران پر توجہ مرکوز کریں گے اور فلسطینی عوام کی مصیبتوں کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی اپیل کریں گے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف اپنے خطاب میں علاقائی سلامتی اور عالمی چیلنجز جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا، اور پائیدار ترقی پر پاکستان کا مؤقف بھی پیش کریں گے۔
اس کے علاوہ اجلاس کے دوران وزیرِاعظم متعدد اعلیٰ سطح کی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) اور موسمیاتی عمل پر خصوصی اجلاس شامل ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف ایک منتخب اسلامی رہنماؤں کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے جس میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
علاوہ ازیں وزیرِاعظم کئی عالمی رہنماؤں اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جو پاکستان کے اس عزم کی عکاس ہیں کہ بطور موجودہ رکن سلامتی کونسل وہ ممبر ممالک کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے منشور کی پاسداری، تنازعات کی روک تھام، امن کی بحالی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔